درج ذیل شعر بھی یہی معنیٰ بیان کر رہا ہے :
وَاَتۡرُکُ مَا اَھۡوٰی لِمَا قَدۡ ھَوَیۡتَہٗ فَاَرۡضٰی بِمَا تَرۡضٰی وَ اِنۡ سَخَطَتۡ نَفۡسِی
ترجمہ:تیری خواہش کے لئے میں اپنی خواہش چھوڑ دیتا ہوں پس میں تیری رضا پر راضی ہوں اگرچہ میرا نفس بُرا منائے۔
اصل محبت ممنوعات سے بچنا ہے:
حضرت سیِّدُنا سَہْل تُستری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشادفرمایا:محبت کی علامت یہ ہے کہ محبوب کو اپنے نفس پر ترجیح دو اور ایسا نہیں ہے کہ جو بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت کرتا ہے وہ اس کا حبیب بن جاتا ہے، حبیب تو وہی بنتا ہے جواس کی منع کردہ باتوں سے باز رہے۔
اور حقیقت بھی یہی ہے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے بندے کا محبت کرنا بندے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت کا سبب ہے جیسا کہ فرمانِ باری تعالٰی ہے :
یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوۡنَہٗۤ ۙ (پ۶،المائدة:۵۴) ترجمۂ کنز الایمان: وہاللہ کے پیارے اور اللہ ان کا پیارا۔
پھر جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ بندے سے محبت فرماتا ہے تو اس کا کفیل ہوجاتا ہے اور اس کے دشمنوں کے خلاف اس کی مدد کرتا ہے اور بندے کا دشمن اس کا نفس اور اس کی خواہشات ہیں پس اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کو رُسوا نہیں کرتا اور نہ اس کو خواہشات کے حوالے کرتا ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے : وَاللہُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآئِکُمْ ؕ وَکَفٰی بِاللہِ وَلِیًّا ٭۫ وَّکَفٰی بِاللہِ نَصِیۡرًا ﴿۴۵﴾(پ۵،النساء:۴۵) ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ خوب جانتا ہے تمہارے دشمنوں کو اور اللہ کافی ہے والی اور اللہ کافی ہے مدد گار۔
نافرمانی کمالِ محبت کے خلاف ہے:
اگر تم کہو کہ کیا نافرمانی اصْلِ محبت کے خلاف ہے؟تو میں اس کے جواب میں کہوں گاکہ یہ اصْلِ محبت کے تو خلاف نہیں البتہ کمالِ محبت کے خلاف ہے ۔مثال کے طور پر کتنے ہی لوگ ہیں جو اپنے نفس سے محبت کرتے ہیں اور بیماری کی حالت میں صحت کے طالب ہوتے ہیں۔ایسے لوگ جان بوجھ کر مُضِر(نقصان دہ) اشیاء کھا لیتے ہیں تو یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ انہیں اپنی جان سے محبت نہیں بلکہ بات دراصل یہ ہے کہ کبھی معرفت کمزور پڑجاتی ہے اور شہوت غالب آجاتی ہے تو انسان محبت کا حق ادا کرنے سے عاجز آجاتا ہے ۔ جیساکہ