Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
115 - 784
	بلکہ جب محبَّتِ الٰہی کا غلبہ ہوتا ہے تو خواہشات کا صفایا ہو جاتا ہے تو اس کے لئے  محبوب کے علاوہ  کوئی لذت باقی نہیں رہتی جیسا کہ منقول ہے کہ
حکایت:میں اس محبت کا بدل نہیں چاہتی
	 زَلیخا جب ایمان لے آئیں اور حضرت سیِّدُنایوسُف عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی زَوْجِیت میں داخل ہوگئیں تو وہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام سے الگ ہوکر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عبادت میں مصروف ہو گئیں اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ہورہیں۔ حضرت  سیِّدُنا یوسف عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامدن کے وقت انہیں بلاتے تو وہ آپ کو رات کا کہہ دیتیں اور جب آپ انہیں رات کے وقت بلاتے تو وہ دن پر ٹال دیتیں اوران سے عرض کرتیں :”میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی معرفت سے قبل آپ سے محبت کرتی تھی لیکن جب سے مجھے اس کی معرفت حاصل ہوئی ہے اس ذات کی محبت نے میرے دل میں اپنے سوا کسی کی محبت کو باقی نہیں چھوڑا اور میں اس محبت کا بدل نہیں چاہتی۔“آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ان سے فرمایا: مجھے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ہی اس کا حکم دیا ہے اور مجھے خبر دی ہے کہ تیرے بطن سے دو لڑکے پیدا فرمائے گا اور ان دونوں کو منصبِ نَبُوَّت عطا فرمائے گا۔ یہ سُن کر انہوں نے عرض کی : اگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے اور مجھے اس کا ذریعہ بنایا ہے تو حکم الٰہی کے سامنے سر تسلیْمِ خم ہے، چنانچہ انہوں نے خلوت لے لی۔(1)
محبَّتِ الٰہی والا نافرمان نہیں ہوتا:
	معلوم ہوا کہ جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے محبت کرتا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتااسی وجہ سے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :
تَعۡصِی الۡاِلٰہَ وَ اَنۡتَ تُظۡھِرُ حُبَّہٗ		ھٰذَا لَعَمۡرِیۡ فِی الۡفَعَالِ بَدِیۡعُ
لَوۡ کَانَ حُبُّـکَ صَادِقًا لَّاَطَعۡتَہٗ		اِنَّ الۡمُحِبَّ لِمَنۡ یُّحِبُّ مُطِیۡعُ
	ترجمہ:(۱)…تم ربّعَزَّ  وَجَلَّ کی نافرمانی کرتے ہو اور اس سے محبت کا اظہار بھی کرتے ہو بخدا!یہ بہت عجیب فعل ہے۔
	(۲)…اگر تمہاری محبت سچی ہوتی تو تم ضرور اس کی اطاعت کرتے کیونکہ محب تو اپنے محبوب کا اطاعت گزار ہوتا ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…قوت القلوب،شرح مقام التوکل ووصف احوال المتوکلین ،۲/ ۸۶