٭…دوسرا سبب:موت کو ناپسند کرنے کا دوسرا سبب یہ ہے کہ بندہ مقامِ محبت کی ابتدا میں ہوتا ہے اور وہ موت کو تو نہیں بلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ملاقات کی تیاری سے پہلے ہی موت کے آنے کو برا جانتا ہے اور یہ بات ضعْفِ محبت پر دلالت نہیں کرتی اور اس شخص کی مثال اس محب کی سی ہے جس کو محبوب کے آنے کی خبر پہنچے اور محب یہ چاہتا ہو کہ اس کا آنا کچھ دیر کے لیے مؤخر ہو جائے تا کہ اس کے لئے اپنے گھر کو آراستہ کر لے اور اس کے لئے تمام سامان تیار کر لے تا کہ قلبی شواغِل اور مَوانع سے فارغ اور ہلکا ہوکر جیسے چاہتا ہے ویسے ملاقات کرے تو اس سبب سے موت کو برا جاننا کمالِ محبت کے بالکل منافی نہیں ہے۔ اس کی علامت عمل میں کوشش کرنا اور فکرِ آخرت میں ڈوبے رہنا ہے۔
دوسری علامت:
محبَّتِ الٰہی کی علامات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پسند کو اپنے ظاہر اور باطن سے اپنی پسند پر ترجیح دے، لہٰذا اعمالِ شاقہ بجا لائے، خواہشات کی پیروی سے اجتناب کرے، سستی و غفلت سے اِعراض کرے، ہمیشہ عبادتِ الٰہی پر کاربند رہے، نوافل کے ذریعے اس کا قُرب حاصل کرتا رہے اور اس کی بارگاہ میں بلندیٔ دَرَجات کا طالب رہے جس طرح محب اپنے محبوب کے دل میں زیادہ قرب کا طالب ہوتا ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے قرآنِ مجید میں محبین کا وصْفِ ایثار یوں بیان فرمایا: یُحِبُّوۡنَ مَنْ ہَاجَرَ اِلَیۡہِمْ وَ لَا یَجِدُوۡنَ فِیۡ صُدُوۡرِہِمْ حَاجَۃً مِّمَّاۤ اُوۡتُوۡا وَ یُؤْثِرُوۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ ؕ۟ (پ۲۸،الحشر:۹)
ترجمۂ کنز الایمان: دوست رکھتے ہیں انہیں جو ان کی طرف ہجرت کر کے گئے اور اپنے دلوں میں کوئی حاجت نہیں پاتے اس چیز کی جو دیئے گئے اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو ۔
اور جو مسلسل خواہشات کی پیروی کرنے میں لگا رہے تو اس کا محبوب وہی ہے جس کی وہ خواہش کرتا ہے بلکہ محب تو محبتِ محبوب میں اپنی ذات سے محبت کرنا بھی چھوڑ دیتا ہے جیسا کہ کہا گیا ہے :
اُرِیۡدُ وِصَالَہٗ وَ یُرِیۡدُ ھِجۡرِیۡ فَاَتۡرُکُ مَا اُرِیۡدُ لِمَا یُرِیۡدُ
ترجمہ:میں اس کے وصال کا طالب ہوں اور وہ مجھ سے جُدائی چاہتا ہے،لہٰذا میں اپنی چاہت کو اس کی چاہت پر قربان کرتا ہوں۔