موت کو ناپسند کرنے کےدو اسباب:
٭…پہلاسبب:اگر تم سوال کروکہ جو شخص موت کو پسند نہیں کرتا کیا وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا مُحِب ہو سکتا ہے؟تو میں کہوں گا کہ موت کو پسند نہ کرنا بعض اوقات تو دنیا کی محبت اور اہل وعیال اور مال سے جُدائی پر افسوس کی وجہ سے ہوتا ہے اور یہ بات کمالِ محبتِ الٰہی کے منافی ہے کیونکہ کامل محبت وہ ہے جو سارے دل کو شامل ہو مگر ساتھ ہی اہل و اولاد کی محبت کے باوُجود محبتِ الٰہی کا ضعیف سا شائبہ ہونا بعید نہیں کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرنے میں لوگوں کے درمیان تفاوت ہے۔اس پر درج ذیل روایت دلالت کرتی ہے۔
فضیلَتِ سالِم بزبانِ مصطفٰے:
حضرت سیِّدُنا ابو حُذیفہ بن عُتْبَہ بن رَبِیْعہ بن عَبْدِشَمْسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جب اپنی بہن فاطمہ کا نکاح اپنے غلام سالِم سے کر دیا تو اس پر قریش نے ان کو ملامت کی اور کہنے لگے کہ تم نے قریش کی ایک عقل مند خاتون کا نکاح غلام سے کر دیا؟توانہوں نے جواب دیا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!میں نے سالم کا نکاح فاطمہ سے کیا ہے کیونکہ میں جانتا ہوں کہ سالِم فاطمہ سے بہتر ہے۔قریش کو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا یہ جواب آپ کے فعل سے بھی زیادہ سخت لگا تو وہ کہنے لگے:یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ فاطمہ تمہاری بہن ہے اور سالم تمہارا غلام ہے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایاکہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے ہوئے سنا ہے:’’مَنۡ اَرَادَ اَنۡ یَّنۡظُرَ اِلٰی رَجُلٍ یُّحِبُّ اللّٰہَ بِکُلِّ قَلۡبِہٖ فَلۡیَنۡظُرۡ اِلٰی سَالِمیعنی جو شخص ایسے بندے کو دیکھنا چاہے جوسچے دل سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرتا ہے وہ سالِم کو دیکھ لے ۔“(1)
یہ حدیثِ پاک ا س بات کی دلیل ہے کہ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جوسچے دل سےاللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت نہیں کرتے بلکہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرنے کے ساتھ غیر ُاللہ سے بھی محبت کرتے ہیں۔ لہٰذا ایسے لوگوں کو بارگاہِ ربُّ العزت میں حاضری کے وقت ملاقات کی لذّت بقدرِ محبت ہو گی اور موت کے وقت دنیا چھوڑنے کا غم اسی قدر ہوگا جس قدر دنیا کی محبت ہو گی۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…حلية الاولیاء، سالم مولی ابی حذيفة ،۱/ ۲۳۳،حدیث:۵۷۳،الرقم:۲۹،سالم مولی ابی حذیفة،مفھومًا،عن عمربن خطاب
قوت القلوب،شرح مقام التوکل ووصف احوال المتوکلین،۲/ ۸۵