Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
111 - 784
	انہوں نے دیدارِ الٰہی  کی محبت کو سجدے پر مقدم کیااوراس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے محبت میں سچا ئی کے ثبوت کے لئے اپنے راستے میں شہادت کو شرط قرار دیا ہے چنانچہ جب لوگوں نے کہا تھا کہ ہم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے محبت کرتے ہیں تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اپنے راستے میں قتل کیا جانا اور طلبِ شہادت کو اس کی علامت قرار دیاجیساکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:
اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الَّذِیۡنَ یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ صَفًّا (پ۲۸،الصف:۴)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک اللہ  دوست رکھتا ہے انہیں جو اس کی راہ میں لڑتے ہیں پرا (صف)باندھ کر۔
	نیز ارشاد فرماتاہے :
یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ فَیَقْتُلُوۡنَ وَ یُقْتَلُوۡنَ ۟(پ۱۱،التوبة:۱۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان: اللہکی راہ میں لڑیں تو ماریں اور مریں۔
	امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی وصیت جو حضرت سیِّدُنا عُمَر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمائی تھی اس میں مذکور تھا:حق بات گِراں ہوتی ہے مگر اس کے با وُجود خوشگوار اور عمدہ ہے اور باطل ہلکا ہوتا ہے لیکن اس کے باوُجود ناموافق اور برا ہوتا ہے پس اگر تم میری وصیت کو یاد رکھو گے تو تمہیں کوئی غائب چیز موت سے زیادہ محبوب نہیں ہو گی اور وہ  تمہیں آکر ہی رہے گی اور اگرتم نے میری وصیّت کو ضائع کر دیا تو کوئی غائب چیز تمہارے ہاں موت سے زیادہ ناپسند نہیں ہو گی اور تم اس سے ہر گز بچ نہیں سکو گے۔
سیِّدُناعبداللہبن جحش رَضِیَ اللہُ عَنْہکی دعائے شہادت:
	حضرت سیِّدُنا اسحاق بن سعد بن ابی وقاص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے  کہ مجھے میرے والد حضرت سیِّدُنا  سعد بن ابی و قاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جنگ اُحد کے دن مجھ سے کہا :کیا ہم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا  نہ کریں؟یہ کہہ کر وہ ایک جانب کو ہو گئے اور اس طرح دعا کرنے لگے: الٰہی!میں تجھے  قسم دیتا ہوں کہ کل جب میرا دشمن سے سامنا ہو تو میرا مقابلہ کسی بہادر اور سخت غصیلے شخص سے ہو اورمیں تیری رضا کے لئے  اس سے لڑوں اور وہ مجھ سے لڑے پھر وہ مجھے پکڑے اور میرا ناک اور کان کاٹ دے اور میرا پیٹ پھاڑ دے اور کل جب میں تجھ سے ملاقات کروں اور تو فرمائے:” اے عبداللہ! تیرا