Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
110 - 784
اس لئے  انسان کو نفس و شیطان کے مکر و فریب سے دھوکا نہیں کھانا چاہئے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے محبت کا دعویٰ کر دے جب تک نفس کو علاماتِ محبت سے آزما نہ لے اور اَدِلّہ و براہین کا اس سے مطالبہ نہ کر لے۔ محبت تو ایک پاکیزہ درخت ہے جس کی جڑیں قائم اور شاخیں آسمان میں ہیں۔ اس کے پھل دل، زبان اور جوارح میں ظاہر ہوتے ہیں اور اس سے دل اور جوارح پرظاہر ہونے والے آثار محبت پر ایسے ہی دلالت کرتے ہیں جیسے دھواں آگ پر اور پھل درختوں پر دلالت کرتے ہیں اور یہ علامات بہت زیادہ ہیں۔
پہلی علامت:
	ان میں سے ایک یہ ہے کہ دارُالسَّلام (سلامتی والے گھرجنت)میں محبوب یعنی  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ملاقات کو کشف اور مشَاہدہ کے طور پر پسند کرےکیونکہ یہ نہیں ہو سکتا  کہ دل کسی محبوب کو چاہے لیکن اس کے دیدار اور ملاقات کو پسند نہ کرے۔ پھر جب وہ جانتا ہے کہ محبوب سے ملاقات کے لئے  موت کا جام  پی کر دنیا کو چھوڑنا  اور اس سے کوچ کرنا ضروری ہے تو اسے چاہئے کہ موت کو محبوب جانے ا سے نا پسند نہ جانے کیونکہ محبوب کی زیارت سے بہرہ مند ہونے کے لئے  اپنے وطن سے دیارِ محبوب کی طرف راہِ سفر اختیار کر نامحب پر گِراں نہیں ہوتا اور موت ملاقات کی چابی اور مشاہدے میں داخل ہونے کا دروازہ ہے۔
	رسولِ اکرم،شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:’’مَنۡ اَحَبَّ لِقَآءَ اللّٰہِ اَحَبَّ اللّٰہُ لِقَآءَہٗ یعنی  جو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ملاقات پسند کرتا ہے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے۔‘‘ (1)
	حضرت سیِّدُنا حُذیفہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بوقتِ وصال فرمایا:’’حَبِیۡبٌ جَآءَ عَلٰی فَاقَةٍ  لَّا اَفۡلَحَ مَنۡ نَّدِمَ یعنی موت بڑے انتظار کے بعد آئی تواس پرغم کرنے والا فلاح نہیں پائے گا۔“(2)
پسندیدہ خصلت:
	ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا قول ہے :”بندے میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ملاقات کی محبت کے بعد کثرتِ سجود سے بڑھ کر کوئی خصلت اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو محبوب نہیں۔“
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…بخاری، کتاب الرقاق، باب من احب لقاء اللّٰہ احب اللّٰہ لقاء ہ،۴/  ۲۴۹،حدیث:۶۵۰۷
2…المصنف لابن ابی شيبة، کتاب الفتن، باب من کرہ الخروج فی الفتنة وتعوذ عنھا،۸/  ۶۰۶،حدیث:۹۵