اہلِ محبّت پر نعمت :
رسولِ کریم، رءُ وْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشاد ہے: اِذَا اَحَبَّ اللّٰہُ عَبۡدًا جَعَلَ لَہٗ وَاعِظًا مِّنۡ نَّـفۡسِہٖ وَ زَاجِرًا مِّنۡ قَلۡبِہٖ یَاۡمُرُہٗ وَ یَنۡھَاہٗ یعنی جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اس کے نفس کو اس کے لئے نصیحت کرنے والا اور دل کوتنبیہ کرنے والا بنا د یتا ہے جو اسے بھلائی کا حکم دیتا اور بُرائی سے منع کرتاہے ۔(1)
دوسری حدیْثِ پاک میں ارشادفرمایا:اِذَا اَرَادَ اللّٰہُ بِعَبۡدٍ خَیۡرًا بَصَّرَہٗ بِعُیُوۡبِ نَفۡسِہٖیعنی جب اللہعَزَّ وَجَلَّ کسی بندے سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے عیب اس پر ظاہر فرمادیتا ہے۔(2)
ظاہر وباطن کا کفیل:
پھر محبت ِ الٰہی کی خاص علامت یہ ہے کہ بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرے کیونکہ یہاللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرنے کی دلیل ہے اور جہاں تک اس فعل کا تعلق ہے جو بندے کے محبوبِ الٰہی ہونے پر دلالت کرتا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ بندے کے تمام ظاہری وباطنی اورسِرّی وجَہْری اُمور کا کفیل ہو، وہی اس کو مشورہ دینے والا، اس کے اُمور کی تدبیر فرمانے والا، اس کے اخلاق کو مزیّن کرنے والا، اس کے اعضاء کو کام میں لگانے والا اور اس کے ظاہر اور باطن کو سدھارنے والاہوتا ہے۔ وہی اس کی تمام فکروں کو ایک فکربنا دیتا ہے، اس کے دل میں دنیا سے نفرت اور اپنے علاوہ سے وحشت ڈال دیتا ہے۔ خلوت میں اس کو مناجات کی لذّت سے مانوس کرتا ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے اور اپنی معرفت کے درمیان سے حجابات کو اٹھا لیتا ہے۔ اَلْغَرَض یہ سب باتیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندے سے محبت کی علامت ہیں اور اب ہم بندے کی اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کی علامات بیان کرتے ہیں کیونکہ یہ بھی بندے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت کی علامت ہیں۔
گیارہویں فصل: بندے کی اللہ تعالٰی سے مَحبت کی علامات
محبت ایک پاکیزہ درخت :
جان لیجئےکہ محبت کا دعوٰی تو ہر کوئی کرتا ہے اور دعوٰی کرنا بہت آسان ہے لیکن محبت نادرُ الوجود ہے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…حلية الاولیاء، ۱۰/ ۱۰۲،حدیث:۱۴۶۶۵،الرقم:۴۶۳،الحارث المحاسبی
2…شعب الایمان ، باب فی الزھد وقصر الامل،۷/ ۳۴۷،حدیث:۱۰۵۳۵