Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
108 - 784
 اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا محبوب ہے؟تواس کا جواب یہ ہے کہ اس کا محبوب ہوناکچھ علامات سے معلوم ہوگا۔ جیسے رسولِ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ ذیشان ہے:اِذَا اَحَبَّ اللّٰہُ عَبۡدًا اِبۡتَلَاہٗ فِاذَااَحَبَّہُ  الۡحُبَّ الۡبَالِغَ اقۡتَنَاہٗ قِیۡلَ وَ مَا اقۡتَنَاہٗ قَالَ لَمۡ یَتۡرُکۡ لَہٗ اَھۡلًا وَّ لَا مَالًایعنی جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اس کو آزمائش میں مبتلاکردیتا ہے اور جب اس سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے تو اس کو خالص کر لیتا ہے۔عرض کی گئی :اس کو خالص کر لینے کا کیا مطلب ہے ؟ارشاد فرمایا:اس کے پاس ا ہل اور مال نہیں رہنے دیتا۔(1)
	معلوم ہوا بندے سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی محبت کی علامت یہ ہے کہ اس کو غیرُ اللہ سے دور کر دے اور اس کے اور غیر کے درمیان ہوجائے۔
	حضرت  سیِّدُنا عیسٰی عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے عرض کی گئی:آپ سُواری کے لئے  گدھا کیوں نہیں خرید لیتے؟ ارشاد فرمایا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو یہ گوارہ نہیں کہ مجھے اپنی ذات سے ہٹا کر گدھے میں مشغول کر دے۔
محبوب کو آزمائش میں ڈالا جاتا ہے:
	ایک حدیث شریف میں یوں آیاہے:’’ اِذَا اَحَبَّ اللّٰہُ عَبۡدًا اِبۡتَلَاہٗ فَاِنۡ صَبَرَ اجۡتَبَاہٗ فَاِنۡ رَضِیَ اصۡطَفَاہٗ یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے توا س کو آزمائش میں ڈال دیتا ہے پس اگر صبرکرے تو اس کوچن لیتا ہےاوراگر راضی رہے تو اس کو بَرگُزیدہ بنالیتا ہے۔‘‘(2)
	بعض علما نے فرمایا کہ جب تم خود کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  سے محبت کرتا دیکھو اور وہ تمہیں آزمائش میں ڈالے تو جان لو کہ وہ تمہیں برگُزیدہ بنانا چاہتا ہے۔
حکایت:ایک مریداورشیخ
	کسی مرید نے اپنے شیخ سے کہا: میں کچھ محبت محسوس کرتا ہوں۔ شیخ نے فرمایا: بیٹا! کیا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے تمہیں اپنے علاوہ کسی اور کی محبت میں مبتلا کیا اور تم نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو اس پر فوقیت دی؟مرید نے جواب دیا: نہیں۔ شیخ نے فرمایا: تب تم محبت کی طمع نہ کرو کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ آزمائش میں ڈالے بغیر کسی بندے کو محبت عطا نہیں فرماتا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…فردوس الاخبار ،۱/  ۱۵۱،حدیث:۹۷۳،بتغیرقلیل
2…فردوس الاخبار ،۱/  ۱۵۱،حدیث:۹۷۶