حاصل ہوجاتا ہے جبکہ دوسرے میں کوئی تغیر نہیں آتا اور صفات میں قُرب بھی اسی طرح ہےمثلاً طالِبِ عِلْم کمالِ علم اور جمال میں اپنے استاذ کا قُرب چاہتا ہے اور استاذ اپنے کمالِ علم کے درجہ پر ساکن ہوتا ہے اور اپنے شاگرد کے مقام کی طرف حرکت نہیں کرتا جبکہ شاگرد حرکت کر کے جہالت کی پستیوں سے علم کی بلندیوں کی طرف ترقی کرتا جاتا ہے پس وہ تبدیلی اور ترقی کے لئے مسلسل محنت اور کوشش کرتا رہتا ہے حتّٰی کہ اپنے استاذ کے قریب ہو جاتا ہے جبکہ استاذ ساکن اور غیرمُتَغَیر ہوتا ہے۔ اسی طرح دَرَجاتِ قُرب میں بندے کی ترقی کو سمجھنا چاہئے تو جب وہ صفات میں کامل،علم اور حقائِقِ اشیاء جاننے میں تام ،شیطان کو مغلوب کرنے اور خواہشات کا قَلْع قَمْع کرنے میں ثابت قدم اور صفاتِ بَد سے اجتناب کرنے میں ظاہر ہوتاہے تو درجَۂ کمال وانتہائے کمال کے قریب ہوجاتا ہےاور ہر شخص کو اس کے کمال کی مقدار ہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے قُرب حاصل ہوتا ہے ۔
پھر یہ شاگرد استاذ کے قریب ہوتے ہوتے بعض اوقات اس کے برابر ہونے بلکہ اس سے آگے بڑھ جانے پر بھی قادر ہوتا ہے لیکن یہ بات باری تعالٰی کے حق میں محال ہے کیونکہ اس کے کمال کی کوئی انتہا نہیں اور دَرَجات ِکمال میں بندے کا سُلوک متناہی ہے اور ایک محدود حد تک ہی رہے گا۔ اس لئے بندے کو برابری کی کوئی طمع نہیں ہو سکتی اور قُرب کے دَرَجات میں بھی ایسا تفاوت ہے جس کی کوئی انتہا نہیں کیونکہ اس کے کمال کی کوئی انتہا نہیں۔
حاصل یہ کہ بندے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت کا مطلب یہ ہے کہ اس سے شواغل اور گناہ دور کر کے اور دنیاوی کدورتوں سے اس کا باطن پاک کر کے اور اس کے دل سے حجاب دور کر کے اپنے قریب کر لے تا کہ بندہ اس ذات کا مشاہَدہ کرے گویا کہ اس کواپنے دل سے دیکھتا ہے۔جبکہ بندے کی اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت یہ ہے کہ وہ اس کمال کو پانے کی طرف مائل ہو جس سے وہ محروم وخالی ہے۔لہٰذا وہ یقینی طورپر اس چیز کا مشتاق ہوگا جو اس کے پاس نہیں ہے اور جب اس میں سے کچھ پائے گا تو اس سے لذت حاصل کرے گا،اس معنی کے اعتبار سے شوق اور محبت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے محال ہے۔
ایک سوال اور اس کا جواب:
اگر تم یہ کہو کہ بندے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت ایک پوشیدہ مُعاملہ ہے، بندے کو کیسے معلوم ہو گا کہ وہ