Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
106 - 784
یا بادشاہ اس کو دیکھ کر راحت حاصل کرے یا اس سے مشورہ لینا چاہے یا اس کے لئے کھانے پینے کے اَسباب مہیا کرے۔ تو کہا جائے گا کہ بادشاہ اس سے محبت کرتا ہے اور اس کا معنیٰ یہ ہوگا کہ بادشاہ کا اس کی طرف میلان ہے کیونکہ اس میں ایک ایسی بات ہے جو بادشاہ کے موافق اور مناسب ہے۔اورکبھی بادشاہ کسی غلام کو مُقَرَّب بناتا ہے اور دربارِ شاہی میں آنے سے منع نہیں کرتا اس لئے  نہیں کہ اس سے فائدہ اٹھانا یا قوت حاصل کرنا مقصود ہے بلکہ اس وجہ سے کہ بذاتِ خود غلام اچھے اخلاق اور عُمدہ صفات کے ساتھ موصوف ہے جن کی وجہ سے وہ اسی لائق ہے کہ قُربِ شاہی میں رہ کر اس کا وافر حصہ پائے حالانکہ بادشاہ کو اس سے بالکل کوئی غرض نہیں ہوتی تو ایسی صورت میں جب بادشاہ اپنے اور اس کے درمیان سے حجاب اٹھائے تو یہی کہا جائے گا کہ بادشاہ کو اس سے محبت ہے اور اگر غلام کو وہی عمدہ خصلتیں حاصل ہوں جو حجاب اٹھانے کا تقاضا کرتی ہیں تو کہا جائے گا کہ اس نے ذریعہ اختیار کر کے خود کو بادشاہ کا محبوب بنا دیا۔
	پس بندے سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی محبت دوسرے معنیٰ کے اعتبار سے ہے نہ کے پہلے معنیٰ کے اعتبار سے اور دوسرے معنیٰ کے اعتبار سے بھی مثال دینا اس شرط کے ساتھ دُرُست ہوگا کہ قرب میں تَجَدُّداورتَغَیُّرکے وقت ذاتِ باری تعالٰی کا تغیر تیرے وہم و گمان میں نہ آئے کیونکہ حبیب وہ ہوتا ہے جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے قریب ہو اور اس کے قرب کا مطلب یہ ہے کہ بندہ چوپایوں، درندوں اور شیاطین کی صفات سے دُور ہو اور اَخلاقِ الٰہیہ سے موسوم مکارمِ اخلاق کو اختیار کرے تو یہ قُرب صفات کے اعتبار سے ہے  مکان کے اعتبارسے نہیں لہٰذا جو پہلے قریب نہیں تھا اور اب قریب ہوگیا تو اس میں تغیر آگیا۔ اس سے بعض اوقات یہ گمان ہوتا ہے کہ جب قُرب میں تبدیلی واقع ہوگئی تو بندے اور ربّعَزَّ  وَجَلَّ دونوں کے وصف میں تبدیلی آگئی کیونکہ وہ پہلے قریب نہ تھا اب قریب ہوگیا اور یہ بات اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے حق میں محال ہے کیو نکہ اس پر تغیر آنا محال ہے بلکہ وہ تو ہمیشہ ان صفاتِ کمال وجلال کے ساتھ متصف رہتا ہے جن پر وہ اَزَل میں تھا۔
٭…دوسری مثال:بیان کردہ بات اشخاص کے قُرب کی ایک مثال سے ہی منکَشِف ہوگی۔ مثال کے طور پر دو آدمی بعض اوقات ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں۔اس طرح کہ دونوں ایک دوسرے کی طرف حرکت کرتے ہیں اور بعض اوقات ایک ساکن رہتا ہے اور دوسرا حرکت کرتا ہے پس ایک میں تغیر کی وجہ سے قرب