ہی ذات سے محبت فرماتا ہے اس معنیٰ پر کہ وہی کل ہے اور اس کے علاوہ کوئی موجود نہیں تو جو صرف اپنی ذات، اپنے افعال اور اپنی تَصانیف(یعنی تخلیقات)سے محبت کرے تو اس کی محبت اپنی ذات اور توابع ذات سے مُتَجاوِز نہیں ہوتی کیونکہ توابع بھی اس کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں لہٰذا اس کی محبت اپنی ذات ہی سے ہوتی ہے۔
بعض تاویلیں اور معنیٰ محبت:
بندوں سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت کے سلسلے میں جو الفاظ وارد ہوئے ہیں ان سب میں تاویل کی گئی ہے اور اس کا حاصِلِ معنیٰ یہ بنتا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ بندے کے دل سے حجاب دور فرمادیتا ہے حتی کہ بندہ اپنے دل سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو دیکھتا ہے یایہ تاویل ہوگی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ بندے کو اپنے قُرب پر قادر بنادیتا ہے یا یہ معنیٰ ہوگا کہ اَزَل میں ہی بندے کو اپنے قُرب پر قادر بنا دینے کا ارادہ تھا، جب محبت کی نسبت ارادۂ اَزَلی کی طرف کی جائے جو اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ بندے کو قُرب کے راستوں پر چلنے کی قدرت ہو تو اس صو رت میں بندے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت اَزَلی ہوگی اوراگر محبت کی نسبت اس کے فعل کی طرف کی جائے جس کے ذریعے وہ بندے کے دل سے حجاب دور کر دیتا ہے تو اس صورت میں محبت حادث ہوگی کہ سبب پائے جانے کی صورت میں محبت بھی پائی جائے گی جیسا کہ(حدیث قدسی میں ہے:)اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:’’ لَا یَزَالُ الۡعَبۡدُ یَتَقَرَّبُ اِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰی اُحِبَّہٗ یعنی بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے حتّٰی کہ وہ میرا محبوب بن جاتا ہے۔‘‘
نوافل کے ذریعے اس کا قُرب حاصل کرنا اس کی باطنی صفائی ، اس کے دل سے حجاب دور ہونے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں قُرب کا درجہ پا لینے کا سبب ہوتا ہے تو یہ تمام باتیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فعل اور بندے پر اس کے لُطف و کرم کی وجہ سے ہیں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت کا یہی معنیٰ ہے۔
دومثالیں:
٭…پہلی مثال:یہ بات ایک مثال کے بغیر سمجھ میں نہیں آئے گی ۔ مثال یہ ہے کہ ایک بادشاہ اپنے کسی غلام کو اپنے قُربِ خاص سے نوازتا ہے اور ہر وقت دربارِشاہی میں حاضر رہنے کاحکم دیتا ہے کیونکہ بادشاہ کا اس کی طرف میلان ہوتا ہے جس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی قوت و طاقت کے ذریعے بادشاہ کی مدد کرے