Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
104 - 784
 (آنکھ) سے ہوتا ہے اور کبھی بصیرت سے جبکہ محبت صرف آنکھ کے ساتھ خاص نہیں بلکہ اس کا ادراک دونوں سے ہوتا ہےلیکن جہاں تک اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بندے سےمحبت کا تعلق ہے تو وہ اس معنیٰ پر ممکن نہیں بلکہ تمام اسما کا اطلاق جب ذاتِ باری تعالٰی اور مخلوق پر ہو تو دونوں پر ایک ہی معنی کا اطلاق نہیں ہوگاحتّٰی کہ لفظ ’’وجود‘‘جو اشتراک کے اعتبار سے الفاظ میں عام تر ہے خالِق اور مخلوق کو ایک ہی حیثیت سے شامل نہیں ہوتا  بلکہ ہر غیرُاللہ کا وُجود اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے وُجود سے مُسْتَفاد ہے تو تابع کا وجود متبوع کے وُجود کے مُساوی نہیں ہوگا مساوات تو صرف لفظ کے اطلاق میں ہے۔ اس کی مثال یہ ہے جس طرح گھوڑا اور درخت لفظ”جسم“ میں مشترک ہیں کیونکہ جسم کا معنیٰ اور اس کی حقیقت بغیر کسی اِستحقاق کے دونوں میں ایک جیسی ہے۔ایسا نہیں کہ ایک میں معنیٰ اصلی ہو اور دوسرے میں مجازی کیونکہ ایک کی”جسمیت“دوسرے سے مستفاد نہیں ہے لیکن اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور مخلوق پر لفظ”وُجود“ کے اطلاق کا معاملہ اس کے برعکس ہےاور یہ فرق تمام اسما جیسے علم، ارادہ، قدرت وغیرہ میں بہت واضح ہے کیونکہ ان تمام الفاظ میں خالق اور مخلوق کے درمیان کوئی مشابہت نہیں اوراس لئے کہ  لغت وضع کرنے والے نے ان الفاظ کو اوّلاً مخلوق کے لئے  وضع کیا کیونکہ ان کو ذکر کرنے سے عقل و فہم میں پہلے مخلوق آتی ہے لہٰذا خالق کے حق میں ان کا استعمال بطورِ اِسْتِعارہ مجاز اور نقل کے ہوا۔
	پھر یہ کہ محبت کا لغوی معنیٰ ہے”نفس کااپنے موافق ومناسب شے کی طرف  مائل ہونا“اور یہ بات اس نفس میں ہو سکتی ہے جو ناقص ہو اور موافق شے پاکر اس سے اِسْتِفادہ کرے اور کامل ہوجائے اوریہ اسی لئے  موافق شے کو پاکر لذّت محسوس کرتا ہے اور یہ بات اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے حق میں محال ہے کیونکہ ہر کمال، جمال اور جلال جواس ذات کے حق میں ممکن ہے وہ اس کے لئے اَبَدی واَزَلی طورپر حاصل وموجود اور واجِبُ الْحُصُول ہے اور اس کا تَجَدُّد اور زوال نہیں ہوسکتا تو اس کی نظر غیر کی طرف اس اعتبار سے نہیں ہوتی کہ وہ غیر ہے بلکہ اس کی نظر صرف اپنی ذات اور اپنے افعال کی طرف ہوتی ہے اور حقیقت میں وُجود صرف اس کی ذات اور افعال کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب شیخ ابو سعیدمِیْہَنیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے پاس یہ آیتِ طیبہ:
یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوۡنَہٗۤ ۙ  (پ۶،المائدة:۵۴)	ترجمۂ کنز الایمان: وہاللہ کے پیارے اور اللہ  ان کا پیارا۔
	تلاوت کی گئی تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:یہ حق ہے کہ وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پیارے ہیں کیونکہ وہ اپنی