Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
103 - 784
(3)…مَنۡ تَوَاضَعَ لِلّٰہِ رَفَعَہُ اللّٰہُ وَ مَنۡ تَکَبَّرَ وَضَعَہ اللّٰہُ وَ مَنۡ اَکۡثَرَ ذِکۡرَ اللّٰہِ اَحَبَّہ اللّٰہُ یعنی جو شخص اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لئے  عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  اس کو بلندی عطا فرماتا ہے(1) اور جو تکبر کرتا ہے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کو پست کردیتا ہے اور جو شخص اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کاذکر کثرت سے کرتا ہے  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  اس سے محبت فرماتا ہے۔“(2)
(4)…سرکاِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشادفرماتا ہے:’’لَا یَزَالُ الۡعَبۡدُ یَتَقَرَّبُ اِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰی اُحِبَّـہٗ فِاِذَا اَحۡبَبۡتُہٗ کُنۡتُ سَمۡعَہُ الَّذِیْ یَسۡمَعُ بِہٖ وَ بَصَرَہُ الَّذِیْ یَبۡصُرُ بِہٖیعنی بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے حتی کہ وہ میرا محبوب بن جاتا ہے پس جب وہ میرا محبوب بن جاتا ہے تو میں اس کے کان ہوتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ ہوتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے ۔“(3)
تو جو چاہے کر  میں نے تجھے بخش دیا:
	حضرت سَیّدُنا  زید بن اسلم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم فرماتے ہیں:بے شک اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بندے سے محبت کرتا ہے حتّٰی کہ اس کی محبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ وہ بندے  سے فرماتا ہے:”اِعۡمَلۡ مَاشِئۡتَ فَقَدۡ غَفَرۡتُ لَــکَ یعنی تو جو چاہے کر، میں نے تجھے بخش دیا ہے۔“(4)
بندے سے محبت کامعنیٰ:
	محبت کے بارے میں وارد تعریفات وتعبیریں شمار سے باہر ہیں اوریہ بات ہم بیان کر چکے ہیں کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  سے بندے کی محبت حقیقی معنی پر ہے مجازی پرنہیں کیونکہ محبت کا لغوی معنیٰ ہے’’موافق چیز کی طر ف نفس کا مائل ہونا‘‘اورجب  اس میلان میں شدت و غلبہ آجائے تواسے عشق کہتے ہیں اور ہم بیان کرچکے ہیں کہ احسان نفس کے موافق ہوتا ہے اور جمال بھی نفس کے موافق ہوتا ہےاور جمال و احسان کا ادراک کبھی بصارت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب البراءة  من الکبر والتواضع،۴/  ۴۵۸،حدیث:۴۱۷۶
2… موسوعة  الامام ابن ابی الدنیا، کتاب التواضع والخمول،۳/  ۵۵۲،حدیث:۷۷
3…بخاری، کتاب الرقاق، باب التواضع،۴/  ۲۴۸،حدیث:۶۵۰۲
4…قوت القلوب،شرح مقام التوکل ووصف احوال المتوکلین ،۲/ ۸۲
	بخاری، کتاب الجھادوالسیر، باب الجاسوس،۲/  ۳۱۱،حدیث:۳۰۰۷