یہ گناہ ایسے ہیں کہ ان میں عالِم کی اتباع کی جاتی ہے بالآخر عالِم مر جاتا ہے اور اس کا شر دنیا میں ہمیشہ کے لئے پھیلا رہ جاتا ہے۔ خوشخبری ہے اس کے لئے جس کی موت کے ساتھ اس کے گناہ بھی مر جائیں۔
دوجہاں کے سلطان،سروَرِذیشانصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ ذِیشان ہے:مَنْ سَنَّ سُنَّةً سَیِّئَةً فَعَلَیْہِ وِزْرُھَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا لَا یُنْقَصُ مِنْ اَوْزَارِھِمْ شَیْئًا یعنی جس نے کوئی بُرا طریقہ جاری کیا اس پر اس گناہ کا بوجھ بھی ہوگا اور ان لوگوں کا بھی بوجھ ہوگا جنہوں نے اس پر عمل کیا اور لوگوں کے بوجھ میں کچھ کمی نہیں ہوگی۔(1)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَ نَکْتُبُ مَا قَدَّمُوۡا وَ اٰثَارَہُمْ ؕ؎ (پ۲۲،یٰسٓ:۱۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ہم لکھ رہے ہیں جو اُنھوں نے آگے بھیجا اور جو نشانیاں پیچھے چھوڑ گئے۔
” اٰثَارَ “ سے مراد وہ اعمال ہیں جو کسی کی پیروی میں اس کے مرنے کے بعد تک کیے جائیں۔
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں:عالِم کے لئے خرابی اس کی اتباع کرنے والوں کی وجہ سے ہوتی ہے کہ اس سے کوئی خطا ہوجاتی ہے پھر وہ اس سے رجوع کرلیتا ہے لیکن لوگ اس کام کو کرنے لگتے ہیں اور پورے عالَم میں پھیلادیتے ہیں۔
عالِم کی لغزش کی مثال:
کسی بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا قول ہے:عالم کی لغزش کی مثال کشتی ٹوٹنے کی سی ہے کہ وہ خود بھی ڈوبتی ہے اور اس میں موجود سوار بھی ڈوبتے ہیں۔
اسرائیلیات میں ہے کہ ایک عالِم نئی نئی باتیں گھڑ کر لوگوں کو گمراہ کرتا تھا۔ پھر اسے توبہ نصیب ہوگئی اور عرصۂ دراز تک لوگوں کی اصلاح میں مشغول رہا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس دور کے نبی عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی فرمائی:”اس سے فرمادیں اگر تیرا گناہ صرف میرے اور تیرے درمیان ہوتا تو میں تیری مغفرت کر دیتا لیکن میرے وہ بندے جن کو تو نے گمراہ کیا اور میں انہیں جہنم میں داخل کروں گا ان کا کیا ہوگا۔“
اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ علما کا معاملہ بہت زیادہ خطرناک ہے ،لہٰذا ان پر دو ذمہ داریاں ہیں:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم،کتاب العلم،باب من سن سنة حسنة…الخ،ص۱۴۳۸،حدیث:۲۶۷۳۔