Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
98 - 882
	حدیْثِ پاک میں ہے:کُلُّ النَّاسِ مُعَافًی اِلَّا الْمُجَاھِرِیْنَ یَبِیْتُ اَحَدُھُمْ عَلٰی ذَنْبٍ قَدْ سَتَرَہُ اللہ عَلَیْہِ فَیُـصْبِحُ فَیَکْشِفُ سِتْرَ اللہ وَ یَتَحَدَّثُ بِذَنْبِہٖ یعنی ہر کسی کے لئے معافی ہے سوائے ان لوگوں کے جو گناہوں کا اظہار کرتے ہیں کہ رات گناہ میں گزارتے ہیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس پر پردہ فرماتا ہے اور وہ صبح اس گناہ کا ذکر کرکے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پردے کو کھول دیتے ہیں۔(1)
	یہ بھی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی صفات اور نعمتوں میں سے ہے کہ وہ اچھی باتوں کو ظاہر کرتا اور بری باتوں کو چھپاتا ہے اور پردہ دری نہیں کرتا۔ پس بری باتوں کا اظہار کرنا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ناشکری ہے۔
	ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:گناہ مت کرو اور اگر گناہ کرنے پر سخت مجبور  ہوجاؤ تو اس گناہ کا اظہار کرکے دوسروں کو ترغیب نہ دلاؤ کیونکہ اس  طرح تم دو گناہوں کے مرتکب ہوگے۔
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: اَلْمُنٰفِقُوۡنَ وَالْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُہُمۡ مِّنۡۢ بَعْضٍ ۘ یَاۡمُرُوۡنَ بِالْمُنۡکَرِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوۡفِ وَیَقْبِضُوۡنَ اَیۡدِیَہُمْ ؕ (پ۱۰،التوبة:۶۷)
ترجمۂ کنز الایمان:منافق مرد اور منافق عورتیں ایک تھیلی کے چٹے بٹے (ایک جیسے) ہیں برائی کا حکم دیں اور بھلائی سے منع کریں اور اپنی مٹھی بند رکھیں (خرچ نہ کریں)۔
	ایک بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:کوئی انسان اپنے بھائی کی عِصْمَت دری اس سے بڑھ کر نہیں کرتا کہ پہلے اسے ایک گناہ پر مدد دے اور بعد میں اس گناہ کو اس کی نَظَر میں ہلکا دکھائے۔
چھٹا سبب:
	(صغیرہ گناہ کو کبیرہ بنانے والا ایک سببب یہ بھی ہے کہ)گناہ کرنے والا شخص عالِم ہو جس کی پیروی کی جاتی ہو۔ پس جب وہ گناہ کرے گا اور لوگ اس کو دیکھیں گے تو اس کا گناہ کبیرہ ہوجائے گا۔ مثلاً عالِم کا ریشم پہننا، سونے کی سواری پر سوار ہونا، بادشاہوں کا شبہ والا مال لینا، بادشاہوں کے پاس مسلسل آمد ورفت رکھنا، ان کے ذریعے اپنی اور لوگوں کی حاجات پوری کرنا، (خلاف شرع کام سے)انہیں منع نہ کرکے ان کی مدد کرنا، زبان سے دوسروں کی عزت اچھالنا، مناظرے میں حد سے تجاوز کرنا اور سامنے والے کی تذلیل کرنا اور ان علوم میں مشغول رہنا جن کا مقصد فقط حصولِ جاہ ہے جیساکہ عِلْمِ جَدَل ومُناظَرَہ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری، کتاب الادب ، باب سترالمؤمن علی نفسہ،۴/ ۱۱۸،حدیث:۶۰۶۹ ،بتغیرقلیل