یہ اور اس قسم کی دوسری باتیں صغیرہ گناہ کو کبیرہ بنا دیتی ہیں۔ گناہ تو بس ہلاکت میں ڈالنے والے ہیں۔ بندہ جب ان میں مبتلا ہو اور شیطان اسے گناہ پر مجبور کر کے اس پر غالب آجائے تو مصیبت اور افسوس کا مقام ہے کہ دشمن اس پر غالب آگیا اور اس وجہ سے وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دور ہوگیا۔ جو مریض دوائی کا برتن ٹوٹنے پر خوش ہو کہ چلو دوائی پینے کی تکلیف سے جان چھوٹی تو اس کے لئے صحت کی امید نہیں کی جاسکتی۔
چوتھا سبب:
(صغیرہ گناہ کو کبیرہ بنانے والا ایک سبب یہ بھی ہے کہ)اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جو اس کی پردہ پوشی فرمائی، اس کے ساتھ بردباری کا معاملہ فرمایا اور اسے جو مہلت دے رکھی ہے اسے ہلکا جانے اور اس بات کو نہ جانے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے یہ ڈھیل سزا ہے تاکہ وہ اس ڈھیل کے سبب گناہ میں مزید بڑھتا چلاجائے بلکہ یہ گمان کرے کہ گناہوں پر اس کا قادر ہونا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عنایت ہے۔ یہ اس بندے کا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے بےخبر اور بےخوف ہونے کے سبب ہوتا ہے۔ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے دھوکے میں ہوتا ہے۔ جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ یَقُوۡلُوۡنَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمْ لَوْ لَا یُعَذِّبُنَا اللہُ بِمَا نَقُوۡلُ ؕ حَسْبُہُمْ جَہَنَّمُ ۚ یَصْلَوْنَہَا ۚ فَبِئْسَ الْمَصِیۡرُ ﴿۸﴾ (پ۲۸،المجادلة:۸) ترجمۂ کنز الایمان:اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں ہمیں اللہ عذاب کیوں نہیں کرتا ہمارے اس کہنے پر انھیں جہنم بس (کافی) ہے اس میں دھنسیں گے تو کیا ہی بُرا انجام۔
پانچواں سبب:
(صغیرہ گناہ کو کبیرہ بنانے والا ایک سبب)گناہ کا اظہار کرنا یعنی گناہ کرنے کے بعد دوسروں کے سامنے اس کا تذکرہ کرنا یا کسی دوسرے کے سامنے گناہ کا اِرتِکاب کرنا ہے۔ یہ اس کی طرف سے اضافی جرم ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جس کی پردہ پوشی فرمائی اسے ظاہر کر رہا ہے اور جس کو یہ گناہ سنا رہا ہے یا جس کے سامنے ارتکاب کر رہا ہے اس کو بھی گناہ کی ترغیب دلا رہا ہے یوں اس گناہ کے ساتھ مزید دو گناہ شامل ہونے کے سبب اس کا گناہ اور بھی سخت ہوجاتا ہے، پھر غیر کو گناہ کی ترغیب دلانے میں گناہ پر ابھارنا اور اس کے اسباب مہیّا کرنا بھی پایا جاتا ہے تو یہ چوتھا گناہ ہوجاتا ہے اور معاملہ بہت سخت ہوجاتا ہے۔