Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
96 - 882
بھیجنے والا کتنا بڑا ہے اور گناہ کے چھوٹا ہونے کو نہ دیکھو بلکہ اس ذات کی بڑائی کو دیکھو جس کی بارگاہ میں اس گناہ کے ساتھ حاضر ہونا ہے۔
٭…اسی اعتبار سے کسی عارف بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا فرمان ہے کہ کوئی گناہ صغیرہ نہیں بلکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ہر نافرمانی گناہِ کبیرہ ہے۔
٭…کسی صحابِیِ رسول نے بعض تابعین سے فرمایا:تم ایسے اعمال کرتے ہو کہ ان کی حیثیت تمہاری نگاہ میں بال سے بھی زیادہ کم ہے جبکہ ہم رسولِ اَکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ظاہری حیات  میں ان اعمال کو ہلاکت خیز امور سے شمار کرتے تھے۔
	صحابَۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو چونکہ جلالِ خداوندی کی کا مل معرفت حاصل تھی ،لہٰذا وہ جلالِ خداوندی عَزَّ  وَجَلَّ کے مقابل صغیرہ گناہ کو بھی کبیرہ گمان کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جاہل کے مقابلے میں عالِم گناہ کو بڑا  خیال کرتا ہے اور بعض باتیں جو عام انسان کو معاف کردی جاتی ہیں عارف کو معاف نہیں کی جاتیں کیونکہ علم ومعرفت جس قدر زیادہ ہو نافرمانی اور گناہ اسی قدر بڑے ہوتے ہیں۔
تیسرا سبب:
	(صغیرہ گناہ کو کبیرہ بنانے والا ایک سبب)صغیرہ گناہ پر خوش ہونا، فخر کرنا نیز اس گناہ پر قادر ہونے کو نعمتِ الٰہی خیال کرنا اور اس بات سے غافل رہنا ہے کہ یہ بدبختی کا سبب ہے۔ جب بندے پر صغیرہ گناہ کی لذت غالب آجاتی ہے تو وہ کبیرہ ہوجاتا ہے اور دل پر گمراہی کی سیاہی چڑھنے میں اس کا اثر زیادہ ہوجاتا ہے یہاں تک کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ گناہ کے ارتکاب کے بعد اس پر خوش ہوتے اور فخر کرتے ہیں کہ ان سے یہ کام سرزد ہوا۔ مثلاً کوئی  کہتا ہے:”دیکھا! کیسے میں نے اس کی عزت کی دھجیاں بکھیر دیں“ مناظر اپنے مناظرے میں کہتا ہے:”تم نے دیکھا نہیں کس طرح میں نے اسے رسوا کیا اور کس طرح  اس کی برائیاں ذکر کرکے اسے شرمندہ کیا اور کس طرح میں نے اسے ذلیل کیا اور اسے دھوکے میں مبتلا کیا۔“ تجارت کرنے والا کہتا ہے:”دیکھا میرا کمال! کیسے میں نے کھوٹا سکہ چلادیا، اسے دھوکا دیا اور کس طرح  میں نے اسے مالی نقصان پہنچایا اور بےوقوف بنایا۔“