ہوجائے اور اسے دوبارہ کبھی نہ کیا جائے تو اس صورت میں اس صغیرہ کے مقابلے میں معافی کی امید زیادہ ہوتی ہے جس پر انسان عمر بھر قائم رہے۔
دوسرا سبب:
(صغیرہ گناہ کو کبیرہ بنانے والے اسباب میں سے ایک یہ ہے کہ) اسے چھوٹا خیال کرے۔ جب بھی انسان گناہ کو بڑا سمجھتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں وہ چھوٹا ہوجاتا ہے اور جب انسان اسے چھوٹا خیال کرتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں وہ گناہ بڑا ہوجاتا ہے کیونکہ گناہ کو بڑا سمجھنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے دل میں اس گناہ سے نفرت وناپسندیدگی پائی جاتی ہے اور یہی نفرت اس کی شدتِ تاثیر کو ختم کردیتی ہے اور کسی گناہ کو معمولی خیال کرنا اس گناہ سے اُلفت کی علامت ہے اور یہ ہلکا خیال کرنا اس کے دل پر گہرا اثر مرتب کرتا ہے۔ انسان کو چاہئے کہ دل کواطاعت وفرمانبرداری کے ذریعے روشن کرے اور گناہوں کے سبب چڑھنے والی سیاہی سے اسے محفوظ رکھے۔ یہی وجہ ہے کہ غفلت میں صادر ہونے والے مُعامَلات میں اس کی پکڑ نہیں کیونکہ غفلت میں ہونے والے گناہ کا اثر دل قبول نہیں کرتا۔
نصیحت آموز فرامین:
٭… حدیث شریف میں ہے:اَلْمُؤْمِنُ یَرٰی ذَنْبَہٗ کَالْجَبـَلِ فَوْقَہٗ یَخَافُ اَنْ یَّقَعَ عَلَیْہِ وَ الْمُنَافِقُ یَرٰی ذَنْبَہٗ کَذُبَابٍ مَرَّعَلٰی اَنْفِہٖ فَاَطَارَہ یعنی مومن اپنے گناہ کو اس طرح دیکھتا ہے جیسے اس کے اوپر ایک پہاڑ ہو اور اسے پہاڑ اپنے اوپر گرجانے کا ڈر ہو اور منافق اپنے گناہ کو ایک مکھی کی طرح دیکھتا ہے جو اس کی ناک پر بیٹھ جاتی ہے تو وہ اسے اُڑادیتا ہے۔(1)
٭…ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ جس گناہ کی بخشش نہیں ہوتی وہ بندے کا یہ قول ہے:” کاش وہ سب گناہ جو میں نے کیے ہیں ایسے ہی ہوتے۔“
٭…مومن گناہ کو اس لئے بڑا خیال کرتا ہے کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے جلال کو جانتا ہے۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ اس نے جس کی نافرمانی کی ہے وہ بہت بڑی ذات ہے تو صغیرہ گناہ کو بھی کبیرہ گمان کرتا ہے۔
٭…اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے ایک نبی عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی فرمائی کہ تحفہ کی قلت کو نہ دیکھو بلکہ یہ دیکھو کہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری، کتاب الدعوات ،باب التوبة،۴/ ۱۹۰،حدیث : ۶۳۰۸۔