Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
94 - 882
تیسری فصل:				صغیرہ گناہ کو کبیرہ بنانے والے اسباب
	اس بات کا علم ہونا چاہئے کہ چند اسباب ایسے ہیں جن کی وجہ سے صغیرہ گناہ کبیرہ بن جاتے ہیں۔
پہلا سبب:
	صغیرہ گناہ بار بار کرنا اور اس کی عادت بنالینا۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ
لَا صَغِیْرَةَ مَعَ اِصْرَارٍ	وَلَا کَبِیْرَةَ مَعَ اسْتِغْفَارٍ
ترجمہ:صغیرہ گناہ بار بار کرنے سے وہ صغیرہ نہیں رہتا (بلکہ کبیرہ بن جاتا ہے) اور توبہ کرنے سے کبیرہ گناہ بھی معاف کردیا جاتا ہے۔
	ایسا کبیرہ گناہ  جس کے بعد گناہ کا سلسلہ مُنْقَطَع ہوجائے اور آئندہ کبیرہ گناہ نہ ہو تو اس صورت میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ سے عفو وکرم کی بارش کی زیادہ امید ہے اس صغیرہ گناہ کے مقابلے میں جسے انسان بار بار کرتا ہے۔ اس صغیرہ گناہ کی مثال پانی کے ان قطروں کی سی ہے جو مسلسل ایک پتھر پر گرتے ر ہتے ہیں اور اس میں اثر کرجاتے ہیں جبکہ اگر اتنا ہی پانی ایک ہی مرتبہ ڈالا جائے تو اثر انداز نہیں ہوتا۔
	حضور نبیّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:خَیْرُ الْاَعْمَالِ اَدْوَمُھَا وَ اِنْ قَلَّ یعنی بہترین عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے اگرچہ تھوڑا ہو۔(1)
	(مشہور مقولہ ہے کہ)اشیاء اپنی ضدوں سے پہچانی جاتی ہیں اور (حدیثِ مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ) نفع بخش عمل وہی ہوتا ہے جو دائمی ہو اگرچہ کم ہو تو ضروری ہے کہ منقطع ہوجانے والا کثیر عمل دل کو روشن اور پاک کرنے میں کم نفع دے گا جبکہ بار بار کیا جانے والا صغیرہ گناہ دل پر گمراہی کی سیاہی چڑھانے میں زیادہ اثرانداز ہوگا۔ البتہ ایسا کم ہوتا ہے کہ انسان اچانک کبیرہ گناہ کا مُرتکِب ہوجائے اور اس کے آگے پیچھے کوئی صغیرہ گناہ نہ ہو، بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ زنا کرنے والا اچانک زنا کربیٹھے اور اس سے پہلے نہ تو گناہ کا ارادہ ہو اور نہ ہی زنا کے مقدمات ہوں اور ایسا بھی بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی بندہ بغیر کسی سابقہ دشمنی کے اچانک کسی کو قتل کردے۔ عموماً ہر کبیرہ گناہ سے پہلے اور بعد صغیرہ گناہ ہوتے ہیں لیکن پھر بھی اگر کبیرہ گناہ اچانک
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری،کتاب الرقاق، باب القصد والمداومة علی العمل،۴/ ۲۳۷،حدیث:۶۴۶۴ ،بلفظ’’احب الاعمال…الخ‘‘۔