Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
93 - 882
 یہی وجہ ہے کہ جب حضرت سیِّدَتُنا رابعہ عَدَوِیّہ بصریہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا سے پوچھا گیا:”آپ حصولِ جنّت کی طرف کیسے راغِب ہوئیں؟“ تو فرمایا:”پہلے صاحِبِ گھر پھر گھر۔“
’’فَنٰی عَنْ نَـفْسِہٖ‘‘  کا مرتبہ پانے والے:
	یہی وہ لوگ ہیں جن کو صاحبِ گھر یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی محبت نے گھر یعنی جنت اور اس کی زینت سے بےخبر کردیا بلکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سوا ہر چیز حتّٰی کہ اپنی ذات سے بھی بےخبر کردیا۔ ان کی مثال اس عاشق کی سی ہے جو اپنے معشوق کی محبت میں حالَتِ جنون تک چلا جاتا ہے اور اپنی پوری ہمت اس کا چہرہ دیکھنے اور اس کے بارے میں سوچنے میں صَرف کر دیتا ہے۔ وہ حالتِ استغراق میں ہوتا ہے اور اپنی جان  سے غافل ہوتا ہے۔ اپنے بدن کو پہنچنے والی  تکلیف بھی محسوس نہیں کرتا۔ اس حالت کو ”فَنٰی عَنْ نَـفْسِہٖ یعنی اپنا آپ بھلا دینے“ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے غیر میں ڈوب چکا اور اس کے تمام غم ایک ہوگئے اور وہ اس کا محبوب ہے، اب اس میں محبوب کے غیر کے لئے کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ اس کی طرف متوجہ ہو نہ اپنے لئے اور نہ ہی کسی اور کے لئے۔ 
	اسی حالت کی بدولت آخرت میں آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک نصیب ہوگی جس کے بارے میں یہ تصور کرنا بھی ناممکن ہے کہ دنیا میں کسی انسان کے دل میں اس کا خیال پیدا ہوسکتا ہے جیساکہ بہرے کے دل میں آوازوں اور نابینا کے دل میں رنگوں کی صورت کا خیال مُتَصَوَّر نہیں جب تک ان کی سماعت وبصارت سے پردہ نہ اُٹھ جائے۔ پردہ اُٹھ جانے کے بعد انہیں اپنی حالت کا اِدراک ہوتا ہے اور وہ قطعی طور پر جان لیتے ہیں کہ اس سے پہلے ان کے دل میں ان صورتوں کا تصور نہیں آسکتا تھا۔ درحقیقت دنیا بھی ایک حجاب ہے اور اس کے اُٹھ جانے سے پردہ اُٹھ جائے گا اور اس وقت حیاتِ طیّبہ کے ذائقہ کا ادراک ہوگا۔ جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ لَہِیَ الْحَیَوَانُ ۘ لَوْ کَانُوۡا یَعْلَمُوۡنَ ﴿۶۴﴾ (پ۲۱،العنکبوت:۶۴) 	ترجمۂ کنز الایمان:اور بےشک آخرت کا گھر ضرور وہی سچی زندگی ہے کیا اچھا تھا اگر جانتے۔
	نیکیوں کے سبب حاصل ہونے والے درجات کی تقسیم میں اس قدر بیان کافی ہے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہی اپنے لطف وکرم سے توفیق بخشنے والا ہے۔