اس مقام کو سمجھنا کافی مشکل ہے اور اس میں شُکُوک وشُبْہات کا غَلَبہ زیادہ ہے۔
چوتھے دَرَجے کی تفصیل:
یہ کامیاب ہونے والوں کا درجہ ہے اور وہ عارفین ہیں نہ کہ مقلّدین۔ یہ لوگ مقرَّبین بارگاہ اور (نیکیوں میں سبقت کرنے کی وجہ سے دخولِ جنّت میں بھی)سَبَقَت لےجانے والے ہیں۔ مُقَلِّد کو جنّت میں کسی مقام کا مل جانا اور اس کا اصحابِ یمین(یعنی جنتیوں) میں سے ہونا ہی اس کے لئے بڑی کامیابی ہے جبکہ مقرّبین کو جو کچھ عطا ہوگا وہ بیان سے باہر ہے اور جس قدر بیان کرنا ممکن ہے اسے قرآنِ پاک میں مفصل طور پر بیان کردیا گیا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بیان سے بڑھ کر کسی کا بیان نہیں۔
اُخروی نعمتوں کا ذکر دنیا میں ممکن نہیں:
بعض باتیں وہ ہیں جنہیں اس عالَم(دنیا)میں بیان کرناممکن نہیں تواللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں بھی اجمالاً بیان فرمادیا۔چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَہُمۡ مِّنۡ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ۚ (پ۲۱،السجدة:۱۷)
ترجمۂ کنز الایمان:تو کسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لیے چھپا رکھی ہے۔
حدیْثِ مُبارَک میں ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:”میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گزرا۔“(1)
عارفین ومقربین کا مطلوب:
عارفین کا مطلوب یہی حالت ہے جس کے بارے میں یہ تصور بھی نہ کیا جاسکے کہ اس دنیا میں کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گزرا ہوگا۔ جہاں تک حور، محلات، پھل، دودھ، شہد، شراب، زیورات اور کنگن کا معاملہ ہے تو ان لوگوں کو ان کی حرص نہیں۔ اگر یہ چیزیں انہیں دے بھی دی جائیں تو وہ ان پر قناعت نہیں کریں گے بلکہ وہ تو فقط دیدارِ الٰہی کی لذت کے طالب ہیں جوکہ سعادت اور لذت کا انتہائی اور اعلیٰ درجہ ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری ، کتاب بدء الخلق، باب ماجاء فی صفة الجنة وانھا مخلوقة ،۲/ ۳۹۱، حدیث:۳۲۴۴۔