ہے لیکن جس شے کا مشاہدہ دل کرتا ہے اس میں غلطی کا امکان نہیں ہوتا اور یہ کیفیت بھی ان لوگوں کی ہوتی ہے جن کا دل روشن ہورہا ہو ورنہ دل روشن ہونے کے بعد جو شے دکھائی دے اس میں تو جھوٹ کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اس ارشادِ خداوندی میں اسی طرف اشارہ ہے: مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰی ﴿۱۱﴾ (پ۲۷،النجم:۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان:دل نے جھوٹ نہ کہا جو دیکھا۔
تیسرے درجے کی تفصیل:
یہ نجات پانے والوں کا دَرَجہ ہے اور نجات سے میری مراد فقَط سلامتی ہے سعادت اور کامیابی مراد نہیں۔ یہ لوگ وہ ہیں جنہوں نے نہ تو اطاعت وفرمانبرداری کی کہ ان پر اِنعام واِکرام ہوتا اور نہ ہی حکم عدولی کی کہ اس کی سزا پاتے۔ ان لوگوں کا حال پاگلوں، کفار کے بچوں اور ناسمجھ بے عقل لوگوں کے زیادہ مشابِہ ہے اور اُن لوگوں کے مشابہ ہے جن کو شہروں اور آبادیوں سے دور اطراف و اکناف میں اسلام کی دعوت نہ پہنچی اور انہوں نے اسی جہالت اور لاعلمی میں زندگی بسر کی، وہ نہ تو معرفت رکھتے ہیں نہ ہی انکار کرتے ہیں، نہ عبادت کرتے ہیں اور نہ ہی نافرمانی، نہ تو ان کے پاس قربِ خداوندی پانے کا کوئی وسیلہ ہے اور نہ ہی بارگاہِ الٰہی سے دور کرنے والا کوئی جرم، وہ لوگ جنتی ہیں نہ جہنمی بلکہ وہ ان دونوں منزلوں کے درمیان ایک منزل اور ان دونوں مقاموں کے درمیان مقام پر اتریں گے جسے شریعت نے اعراف کا نام دیا ہے۔ مخلوق میں سے ایک گروہ کا اس مقام پر اترنا قرآنی آیات اور احادِیْثِ مُبارَکہ سے یقینی طور پر ثابت ہے(1) اور نور عقلی سے بھی یہی پتا چلتا ہے۔ بہرحال کسی خاص ومعیّن پر حکم لگانا مثلاً یہ کہنا کہ ”بچے اَعراف والوں میں سے ہوں گے“ یہ بات غیریقینی اور محض گمان ہے۔ حقیقتاً اس کی اِطِّلاع اَنبیائے کِرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کو ہوتی ہے۔ اولیا وعلما کا اس مرتبے کو پانا بعید ہے۔ بچوں کے بارے میں موجود رِوایات میں بھی تعارُض ہے حتّٰی کہ جب اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے کسی بچے کے فوت ہونے پر فرمایا:”یہ جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے“ تو حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس بات سے منع کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:”تمہیں کیسے پتا؟“(2)پس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیرالطبری،پ۸،سورة الاعراف،تحت الاٰیة:۴۶،۵/ ۴۹۸تا۵۰۱،حدیث:۱۴۶۹۳تا۱۴۷۱۳۔
2… مسلم، کتاب القدر، باب کل مولود یولد علی الفطرة،ص۱۴۳۱،حدیث:۲۶۶۲۔
شرح السنة، کتاب الایمان ، باب الایمان بالقدر،۱/ ۱۴۰،حدیث:۷۷۔