Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
90 - 882
جاتا ہے اور جو ہلاکت کی طرف لےجاتا ہے اسے غضب اور انتقام سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس کے علاوہ مشیَّتِ الٰہیہ اَزَلیہ کا راز ہے جس پر مخلوق مطلع نہیں ہوسکتی۔ اسی لئے ہم پر واجب ہے کہ ہم گناہ گار پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف سے  عفو ودرگزر کو جائز سمجھیں اگرچہ بظاہر اس کے گناہ کتنے ہی زیادہ ہوں، اسی طرح اطاعت گزار پر غضب کو بھی ممکن جانیں اگرچہ بظاہر اس کی نیکیاں زیادہ ہی کیوں نہ ہوں کیونکہ اعتماد تقوٰی پر ہے اور تقوٰی دل میں ہوتا ہے اور دل کے معاملے پر خود متقی کا مطلع ہونا بہت مشکل امر ہے تو کوئی دوسرا کس طرح اطلاع پائے گا۔ لیکن بعض اوقات اربابِ قُلُوب پر مُنکَشِفْ ہوجاتا ہے کہ بندے کی معافی کسی خفیہ سبب کے باعث ہوئی ہے جو معافی کا تقاضا کرتا تھا اور غضب کا بھی کوئی مخفی سبب ہے جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے  دوری کا مقتضی تھا۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو معافی اور غضب اعمال واوصاف کا بدلہ نہ ٹھہرتے اور اگر جزا وسزا نہ ہوتی تو عدل نہ ہوتا اور اگر عدل نہ ہوتا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا یہ فرمان صحیح نہ ہوتا:
وَمَا رَبُّکَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیۡدِ ﴿۴۶﴾ (پ۲۴،حمٓ السجدة:۴۶) 	ترجمۂ کنز الایمان:اور تمہارا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔
	اور نہ ہی یہ فرمان  صحیح قرار پاتا:
اِنَّ اللہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ ۚ (پ۵،النسآء:۴۰) 	ترجمۂ کنز الایمان:اللہ ایک ذرّہ بھر ظلم نہیں فرماتا۔
	جبکہ یہ سب فرامین حق ہیں اور آدمی اپنی کوشش پاتا ہے اور اپنی کوشش (کا نتیجہ) دیکھتا ہے اور ہر جان اپنے اعمال کے بدلے گروی ہے۔ پھر جب لوگ ٹیڑھے ہوتے ہیں تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ان کے دل ٹیڑھے کردیتا ہے اور جب وہ خود اپنی حالت کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ان کی حالت کو بدل دیتا ہے۔ اسی کے بارے میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ اللہَ لَایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَابِاَنْفُسِہِمْ ؕ (پ۱۳،الرعد:۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان:بےشک اللہ کسی قوم سے اپنی نعمت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل دیں۔
	یہ تمام باتیں اہلِ دل پر اس قدر منکشف ہوجاتی ہیں کہ یہ انکشاف آنکھوں کے دیکھنے سے زیادہ واضح ہوتا ہے کیونکہ نظر کا دھوکا کھا جانا تو ممکن ہے کہ بعض اوقات دور کی چیز قریب اور بڑی چیز چھوٹی نظر آتی