Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
9 - 882
توبہ کا بیان
مقدمہ:
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہی کے لئے تما م تعریفیں ہیں، اسی کی تعریف  سے ہر کتاب کی ابتدا ہوتی ہے، اسی کے ذکر سے ہر گفتگو کا آغاز ہوتا ہے، اسی کی حمدسے جنت میں اہْلِ جنَّت نعمتیں پائیں گےاور اسی کے نام سے بدبخت تسلی حاصل کریں گے اگر چہ ان کے سامنے پردہ لٹکا دیاجائے گا اور بدبختوں اور خوش بختو ں کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی جس میں دروازہ ہوگا، اس کے اندر کی طرف رحمت اور باہر کی طرف عذاب ہے۔ ہم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگا ہ میں ان لو گوں کی طرح توبہ کرتے ہیں جنہیں یقین ہے کہ وہی ربُّ الاَرْباب (یعنی سب پَروَرِش کرنے والوں کاپالنے والا) اور مُسبِّبُ الاَسباب (یعنی اَسبا ب پیدا کرنے والا)ہے اور ان لوگوں کی طرح اس سے اُمید رکھتے ہیں جو اسے مہربان،بخشنے والا اورتوبہ قبول کرے والا بادشاہ مانتے ہیں اور ہم خوف اور امید کے درمیان ان لوگوں کی طرح ہیں جو اس بات میں کوئی شک نہیں کرتے کہ وہ  گنا ہ بخشنے والا اور توبہ قبول فرمانے والا ہونے کے باوُجُود سخت عذاب دینے والا ہے اور ہم اس کے محبوب نبی حضرت سیِّدُنا محمد مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپراورآپ کے آل واصحاب پر ایسا درود بھیجتے ہیں جو ہمیں حشروحساب کے دن مصیبتوں سے بچائے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا قُرب اور اچھا ٹھکا نا ہمارا مقدر بنائے۔
توبہ کیوں اور کس لئے؟
	بےشک عیبوں کو چھپانے اور غیبوں کو جاننے والے کی طرف رجوع کرکے گناہوں سے توبہ کرنا  راہِ طریقت پر چلنے والوں کا آغا ز، کا میاب لو گو ں کا سرمایہ، ارادہ کرنے والوں کا پہلا قدم، راستے سے دور ہونے والوں کے لئے استقامت  کی کنجی اور مُقَرَّبِیْنِ بارگاہ کے لئے انتخاب وبَرگُزِیدگی کا ذریعہ ہے، بالخصوص ہمارے جدِّامجدحضرت سیِّدُنا آدم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لئے بلندمراتب کا سبب ہے اور اولا د اپنے باپ دادا ہی کی اتباع کرتی ہے۔اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ آدمی سے گناہ وجرم کا صدورہوجاتا ہے کیونکہ وہ انسان ہے اور یہ توطبیعت وعادت میں اپنے باپ سے مشابہ ہونا ہے مگر ایک بات یہ بھی ہے کہ جب