Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
89 - 882
 اس کی کوئی نیکی باقی نہ بچے گی۔ اب فَرِشتے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کریں گے:”اے ہمارے رب عَزَّ  وَجَلَّ! اس کی نیکیاں تو ختم ہوچکیں جبکہ مطالَبہ کرنے والے بہت سے لوگ باقی ہیں۔“اللہ عَزَّ  وَجَلَّ فرمائے گا:”ان کے گناہ اس کے پلڑے میں ڈال دو اور اسے جہنم میں دھکیل دو۔“ اس طرح ظالم کے پلڑے میں بطورِ قصاص دوسروں کے گناہ ڈالے جانے کی وجہ  سے ظالم ہلاک ہوجائے گا اور مظلوم ظالِم کی نیکیوں کے سبَب نجات پاجائے گا کیونکہ وہ نیکیاں ظُلْم کی وجہ سے مظلوم کی طرف منتقل ہوجائیں گی۔
	حضرت سیِّدُنا ابوعبداللہ محمد بن یحییٰ بن جَلّاءرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے منقول ہے کہ کسی نے ان کی غیبت کی پھر ان کے پاس کسی کو بھیجا  کہ معاف فرمادیں تو انہوں نے فرمایا:”میں معاف نہیں کروں گا۔ میرے نامۂ اعمال میں اس سے افضل کوئی نیکی نہیں ہے تو میں اسے کیونکر مٹادوں؟“ حضرت سیِّدُنا اِبْنِ جَلَّاء  اوربعض دیگر حضرات رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے بھائیوں کے گناہ(یعنی ان کا ہماری حق تلفی کرنا) ہمارے حق میں نیکیاں ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ (بدلہ نہ لےکر) ان کے ذریعے اپنے نامۂ اعمال کو سجائیں۔
اعمال پر بھروسا نہ کیا جائے:
	 یہ سعادت اور بدبختی کے اعتبار سے ان دَرَجات کا بیان تھا جو قیامت میں لوگوں کو حاصل ہوں گے۔ یہ تمام احکام ظاہری اسباب کے مطابق ہیں جوکہ ڈاکٹر کے اس فیصلے سے مشابہت رکھتے ہیں مثلاً ڈاکٹر کسی مریض کے بارے میں کہتا ہے کہ یہ لامُحالہ مرجائے گا، اس پر علاج کارگر نہیں ہے اور دوسرے مریض کے بارے میں کہتا ہے کہ اس کا مرض معمولی ہے علاج ممکن ہے۔ یہ فقط ایک گمان ہے جوکہ اکثر اوقات صحیح ہوتا ہے اور بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جس مریض کے مرجانے کا خیال کیا جاتا ہے وہ صحت پا جاتا ہے  اور طبیب کو اس کا شعور بھی نہیں ہوتا جبکہ معمولی مرض والا مریض موت سے ہمکنار ہوجاتا ہے اور ڈاکٹر کو اس کا گمان بھی نہیں ہوتا کیونکہ اس کا  تعلق اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ان خفیہ اسرار سے ہے جو زندوں کی ارواح اور ان گہرے اسباب سے متعلق ہیں جن کو مُسبِّبُ الاَسباب نے ایک معلوم مقدار پر مرتب کیا ہے اور ان اسباب کی گہرائی تک جانا قوتِ بَشَری سے باہر ہے۔
	بالکل اسی طرح آخرت میں کامیابی اور نجات کا معاملہ ہے۔ ان کے بھی خفیہ اسباب ہیں جن پر مُطَّلَع ہونا بندے کی طاقت میں نہیں ہے۔ جو خفیہ سبب نجات کی طرف لےجاتا ہے اسے عفو ورضا سے تعبیر کیا