زبانی قول فائدہ نہیں دے گا بلکہ سچی توحید نفع دے گی اور توحید کا کمال درجہ یہ ہے کہ تمام امور کے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے ہونے پر یقین رکھے۔ اس کی علامت یہ ہے کہ جو کچھ اسے پہنچے اس کی وجہ سے مخلوق پر غصہ نہ کرے کیونکہ وہ وسیلے کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تو مُسبِّبُ الاَسباب کی طرف نظر کئے ہوئے ہے۔ عنقریب اس کی تحقیق ”توکل کے بیان“میں آئے گی۔
حَسْبِ ایمان لوگوں کے مراتب:
توحید میں بھی مختلف درجات ہیں، بعض لوگوں کا عقیدۂ توحید پہاڑ کی طرح ہوتا ہے اور بعض کا ایک مثقال جیسا جبکہ کچھ لوگوں کا عقیدۂ توحید تو رائی کے دانے اور ذرّے کے برابر ہوتا ہے۔ پس جس شخص کے دل میں ایک دینار برابر ایمان ہوگا وہ جہنم سے نکلنے والا پہلا شخص ہوگا۔ جیساکہ حدیث شریف میں ہے کہ (بروز قیامت) فرمایا جائے گا:”اس شخص کو جہنم سے نکال دو جس کے دل میں ایک دیناربرابر ایمان ہے۔“(1) اور سب سے آخر میں نکلنے والا شخص وہ ہوگا جس کے دل میں ذرّے برابر ایمان ہوگا(2)اور مثقال اور ذرّے کے درمیان جومختلف درجات ہیں وہ مثقال اور ذرّے والے طَبَقات کے درمِیان حسْبِ مراتِب جہنَّم سے نکلیں گے۔ مثقال اور ذرّے کے ساتھ وزن کا بیان یہ تو ضربُ الْمَثل کے طور پر ہے جیساکہ ہم نے اَجناس اور نقد کے درمیان موازنہ ذکر کیاہے۔
حقوقُ العباد معاف نہیں کئے جاتے:
اکثر ایمان والے لوگوں کے حقوق ضائع کرنے کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے کیونکہ حقوقُ العباد معاف نہیں کئے جاتے جبکہ دیگر گناہوں کے لئے معافی اور کفارہ ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ بندے کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں کھڑا کیا جائے گا اور اس کی نیکیاں پہاڑوں جیسی ہوں گی کہ اگر محفوظ رہیں تو وہ جنتی ہو مگر وہ لوگ کھڑے ہوں گے جن کے حقوق اس نے ضائع کئے، کسی کو گالی دےکر اس کی عزت خراب کی ہوگی، کسی کا مال غصب کیا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا۔ ان لوگوں کا معاملہ اس شخص کی نیکیاں دےکر نمٹایا جائے گا یہاں تک کہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… بخاری ،کتاب التوحید ، باب قول اللہ تعالٰی:وجوہ یومئذ ناضرة،۴/ ۵۵۳، حدیث:۷۴۳۹، مفھومًا۔
2… بخاری ،کتاب التوحید ، باب قول اللہ تعالٰی:وجوہ یومئذ ناضرة ،۴/ ۵۵۳،حدیث:۷۴۳۹، مفھومًا۔