Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
871 - 882
بھی لکھاجاتاہے۔“(1) اسے ناپسند کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آہ و بکا میں ایسےمعنی کا اظہار ہےجو شکوہ کا تقاضا کرتے ہیں۔ یہ بھی کہاگیاہے کہ”شیطان کو حضرت سیِّدُنا ایوب عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سےبیماری میں آہ کے علاوہ  کچھ حصہ نہ ملاپس اس نے اسی آہ کواپنا حصہ خیال کیا۔“(2)
فرشتوں کی دعا سے محروم بیمار:
	حدیث پاک میں ہےکہ  جب کوئی شخص بیمار ہوتاہے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ دو فرشتوں کوحکم فرماتاہے:”دیکھو ! یہ شخص عیادت کرنے والوں سے کیا کہتاہے؟“ اگر وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا شکر بجالائے اور اچھی بات کہے تو دونوں فرشتے اسے دعا دیتے ہیں اور اگر شکوہ کرے اور بیماری کو براکہے تو دونوں کہتے ہیں:”تواسی حال میں رہ۔“(3)
بیماری میں بھی احتیاط:
	بعض بزرگانِ دین عیادت کرنےوالوں سے ملنا پسند نہ کرتے کہ  کہیں شکوہ وشکایت اور فضول گفتگو نہ ہوجائے جبکہ حضرت سیِّدُنا فضیل بن عیاض، حضرت سیِّدُنا وہیب بن وردمکی اور حضرت سیِّدُنا بشر حافیرَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِم  کایہ طریقہ کار ہوتاکہ بیمار ہوتے تو گھر کا دروازہ ہی بند کرلیتےتاکہ کوئی ان کے پاس نہ آئے یہاں تک کہ صحت یاب ہوکر باہر نکلتے۔حضرت سیِّدُنا فضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”میں چاہتا ہوں کہ بیمار ہوجاؤں تو کوئی عیادت کرنےوالانہ ہو۔“ مزید فرماتے ہیں:”میں بیماری کوصرف عیادت کرنے والوں کی وجہ سے ناپسند کرتا ہوں۔“
اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی توفیق اور مدد سے ”توحید و توکل کا بیان“ مکمل ہوا۔
( تُوْبُوْااِلَی اللہ		اَسْتَغْفِرُاللہ )
( صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب 		صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد )
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المصنف لابن ابی شیبة، کتاب الجنائز، باب ما قالوا فی ثواب الحمی والمرض، ۳/ ۱۲۱، حدیث:۳۱
2…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب مکائد الشیطان، ۴/ ۵۴۲، حدیث:۴۸
3…الموطا للامام مالک بن انس، کتاب العین، باب ما جاء فی اجر المریض، ۲/ ۴۲۹، حدیث:۱۷۹۸،بتغیرقلیل
	موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب المرض والکفارات، ۴/ ۲۳۸، حدیث:۴۷،بتغیرقلیل