Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
870 - 882
 وہ طریقہ اپنایاجو بارگاہِ رسالت سے سیکھاتھاکہ ایک مرتبہ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیمارہوئے تو دعا کی:”اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ !مجھے اس مصیبت پر صبر عطا فرما۔“(1) یہ سن کر رسولِ اَکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”تم نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے مصیبت طلب کی ہے ،اب  عافیت طلب کرو۔“
	انہی نیتوں کی وجہ سے بیماری کے اظہار کی اجازت ہےکہ ان کا پایاجاناشرط ہے کیونکہ بیماری کا ڈھنڈورا پیٹنا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے شِکوہ و شکایت ہے جوکہ حرام ہے جس طرح فقیر کابلا ضرورت سوال کرناحرام ہے۔
بیماری کا اظہار کب شکوہ ہے؟
	بیماری کااظہار کرنااس وقت شکوہ ہوگاجب بیمار ہونے پر ناراضی  اور ناگواری کا اظہار ہوجبکہ بیماری کا اظہار یوں کرنا کہ ناگواری اورمذکورہ شرطیں موجود نہ ہوں تو یہ حرام نہیں لیکن بہتر یہی ہے کہ یوں بھی اظہار نہ کیا جائے کہ بسااوقات اس سے  شکوے کا وَہم پیداہوجاتاہےاور کبھی بڑھاچڑھا کربیماری کاچَرچا کر بیٹھتا ہے۔البتہ جو شخص توکل کی وجہ سے علاج نہ کروائے اسے حق نہیں پہنچتاکہ بیماری کا اظہار کرےکیونکہ راز ظاہر کرکے سکون حاصل کرنے سے بہتر ہےکہ دوا کے ذریعے سکون حاصل کرلیاجائے۔
	ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ جس نے مرض کااظہار کیا وہ صبر نہ کرسکانیزآیتِ مبارَکہ کا  فَصَبْرٌ جَمِیۡلٌ ؕ (پ۱۳،یوسف:۸۳، ترجمۂ کنزالایمان:تو اچھا صبر ہے۔)“ کا معنیٰ ایک قول کے مطابق یہی ہے کہ صبر وہ اچھاہے جس میں شکوہ وشکایت نہ ہو۔
	حضرت سیِّدُنا یعقوب عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی خدمت میں عرض کی گئی:”کس وجہ سے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی بینائی چلی گئی؟“فرمایا:”شدید غموں کے ساتھ لمبا عرصہ گزرجانے کی وجہ سے۔“اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی فرمائی:”تم میرے بندوں کے سامنے میری شکایتوں  میں مصروف ہوگئے۔“یہ سن کر آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے کہا:”اے میرے رب عَزَّ  وَجَلَّ !میں تیری بارگاہ میں رجوع کرتاہوں۔“(2)
	حضرت سیِّدُنا طاؤس بن کیسان اور حضرت سیِّدُنا مجاہدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا فرماتے ہیں:”بیمارکا آہ و بکا کرنا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سنن الترمذی، کتاب الدعوات، باب فی دعاء المریض، ۵/ ۳۲۹، حدیث:۳۵۷۵
2…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب العقوبات، ۴/ ۴۶۶، حدیث:۱۵۴،بتغیرقلیل