Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
87 - 882
 اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی دی ہوئی امانت اور نعمت (زندگی) میں خیانت کرتا ہے اور اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے۔ یوں وہ اپنے آپ کو عذاب کے لئے پیش کردیتا ہے۔ درحقیقت اس کا حال جانوروں سے بھی بدتر ہوتا ہے کیونکہ جانور تو مرنے کے بعد نجات پاجاتے ہیں لیکن انسان! اس کے پاس تو امانت ہے جو  عنقریب امانت والے کی طرف لوٹانا ہوگی کیونکہ امانت کا لوٹنا اور اس کا ٹھکانا اسی کی طرف ہے اور یہ امانت روشن سورج کی طرح  ظاہر وواضح ہے۔ یہ امانت (یعنی حیات) اس فانی جسم کی طرف اتاری گئی اور اس میں آکر غروب ہوگئی، عنقریب جب یہ جسم بگڑ جائے گا تو وہ اپنے غروب ہونے کے مقام سے طلوع ہوکر اپنے خالق و مالک کی طرف لوٹ جائے گی اور اس کا لوٹنا یا تو تاریک گرہن لگی ہوئی حالت میں ہوگا یا چمکتی ہوئی روشن صورت میں۔ چمکتی ہوئی روشن صورت بارگاہِ ربوبیت میں بلاحجاب حاضر ہوگی اور تاریک صورت کا لوٹنا بھی بارگاہِ خداوندی  ہی کی طرف ہے کیونکہ سب کا مرجع ذاتِ باری تعالیٰ ہے لیکن وہ اپنے سَر کو اَعْلٰی عِلِّیِّین سے اَسْفَلُ السَّافِلِیْن کی طرف جھکائے ہوئے  ہوگی۔ اسی لئے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے  ارشاد فرمایا۔
وَلَوْ تَرٰۤی اِذِ الْمُجْرِمُوۡنَ نَاکِسُوۡا رُءُوۡسِہِمْ عِنۡدَ رَبِّہِمْ ؕ (پ۲۱،السجدة:۱۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور کہیں تم دیکھو جب مجرم اپنے رب کے پاس سر نیچے ڈالے ہوں گے۔
	اس آیت میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے بیان فرمادیا کہ مجرم بھی اپنے رب کے پاس ہی ہوں گے لیکن ان کے چہرے پیٹھ کی طرف پھر چکے ہوں گے اور ان کے سَر اوپر سے نچلی جانب  جھکے ہوں گے۔ یہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا ان لوگوں کے بارے میں حکم ہے جنہیں اس نے اپنی  توفیق سے محروم کردیا اور اپنے راستے کی طرف ان کی راہنمائی نہ فرمائی۔ ہم  گمراہی اور جاہلوں کے مقامات پر اُتارے جانے  سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی پناہ چاہتے ہیں۔
	یہ ان لوگوں کی تقسیم  کا بیان ہے جو جہنم سے نکالے جائیں گے اور ان کو  اس دنیا کا دس گنا یا اس  سے بھی زیادہ دیا جائے گا اور جہنَّم سے وہی نکلےگا جو توحید کا اقرار کرتا ہو اور توحید سے میری مراد یہ نہیں کہ صرف زبان سے ”لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ“  کہتا ہو کیونکہ زبان کا تعلق تو  اس عالَمِ ظاہِر اور عالَمِ شہادت سے ہے اور اس کا فائدہ  و نفع فقط  اسی عالَم میں ہے۔ پس زبان سے کلمہ پڑھنا اس کی گردن کوتلوار سے اور مال  کو مالِ غنیمت بننے سے بچاتا ہے  اور اس کی گردن اور مال کی بقا اس کی زندگی تک ہے۔ تو جب گردن اور مال نہیں رہے گا اس وقت صرف