علاج کروانے کی نیت سے اظہار کرنا:
٭…نیت علاج کروانے کی ہواورپھر طبیب کے سامنے اس کااظہار کردے کہ اب نیت شکایت کرنانہیں بلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قدرت کاملہ کے بارے میں خبر دیناہے جوکہ اس کی ذات پر بیماری کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا بشرحافیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِیعبدالرحمٰن طبیب کےسامنے اپنی تکالیف کا اظہار کیا کرتےاورحضرت سیِّدُناامام احمدبن حنبلعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَ وَّلجس بیماری میں مبتلاہوتےاسے بتاتے اور فرماتے:”میں اپنی ذات پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قدرت کے اوصاف بیان کررہاہوں ۔“
تربیت کی نیت سے اظہارکرنا:
٭…یہ شخص پیشوا ہواور پھربیماری کااظہار اس نیت سے کرے تاکہ ماتحت افراد بیماری پر نہ صرف صبر کرنا سیکھیں بلکہ شکراداکرنا بھی سیکھیں اور یوں ظاہر کرے کہ بیماری ایک نعمت ہے لہٰذا اس پر شکر کرناچاہئے نیز یوں گفتگو کرے جیسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں کے بارے میں گفتگو کرتاہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:”مریض اگر پہلے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد کرے اور شکر اداکرے پھرتکالیف کو ذکر کرے تو یہ شکوہ نہیں۔“
اپنا عجز ظاہر کرنے کی نیت سے اظہارکرنا:
٭…بیماری کا اظہاراس نیت سے کرے کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا عاجز اور محتاج بندہ ہے۔ یہ نیت اس شخص کےحق میں بہتر ہےجو طاقتور اور بہادر ہواوراس کی طرف سے کمزوری کا پایاجانا بہت مشکل ہو۔ چنانچہ مروی ہےکہ چند لوگوں نےامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی عیادت کرتے ہوئے پوچھا:
”آپ کیسے ہیں؟“فرمایا:”بری حالت میں ہوں۔“ان لوگوں نے ایک دوسرے کی جانب یوں دیکھا گویا اس جواب کو ناپسند کیاہواور اسے شکوہ سمجھاہو۔ حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا:” کیا میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں بہادری دکھاؤں۔“یعنی آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے آپ کو عاجز اور محتاج بندہ ظاہرکرناپسند کیاحالانکہ آپ کی بہادری اور شجاعت مشہور تھی، اس کے برخلاف آپ نے