Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
868 - 882
علاج سےممانعت کی دوصورتیں:
	علاج اگر اس وجہ سے ہوکہ نفع دوا سے پہنچتاہے نہ کہ خالق دواسےتو علاج کروانامنع ہے، یونہی صحت یاب اس لئے ہونا چاہتا ہے تاکہ گناہ کرےتو بھی علاج منع ہے۔عام طور پر نہ تو مسلمان کی یہ نیت ہوتی ہے نہ ہی یہ کہ دوا بذات خود فائدہ پہنچاتی ہے بلکہ یہ نیت ہوتی ہےکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اسے نفع بخش سبب بنایاہےجیسے پانی کہ خود پیاس نہیں بجھاتا اور نہ روٹی خودبھوک مٹاتی ہے۔
علاج کا حکم:
فائدے کے اعتبار سے علاج کا وہی حکم ہے جو کام کاج کرنے کا ہے کہ نیکی پر قوت حاصل  کرنے کے لئے کرے تونیکی ہے اور گناہ میں پڑنے کے لئے کرے تو گناہ ہےاور اگر جائز چیز سے لطف اندوز ہونےکے لئے کرے تو جائز ہے۔
	گزشتہ گفتگو سے یہ ظاہر ہوچکاہےکہ بعض صورتوں میں علاج چھوڑدینا افضل ہے اوربعض میں علاج کروانا، یونہی یہ حکم مختلف لوگوں کی جُدَاگانَہ حالتوں اورنیتوں سےبدل جاتاہےنیز یہ بھی ظاہر  ہوچکاہےکہ علاج کروانا یا چھوڑدیناتوکل میں شرط نہیں ہے۔ البتہ یہ شرط ضرورہے کہ وہمی علاج مثلاً داغ لگوانے اور جھاڑ پھونک کروانے سے پرہیز کرےکہ ان کاموں میں مصروف ہونا ”مُتَوَکِّلْ“ کے شایانِ شان نہیں۔
نویں فصل :				  متوکلین کا بیماری ظاہر کرنااور اسے چھپانا
	جان لیجئے! بیماری چھپانااور محتاجی و دیگر مصیبتوں کا اظہار نہ کرنانیکیوں کا خزانہ ہےجو کہ بلند ترین مقام ہے کیونکہ تقدیر الٰہی کے فیصلے پر راضی رہنااور مصیبت پر صبر کرناایک ایسا معاملہ ہے جو بندے اور اس کے رب عَزَّ  وَجَلَّ کے درمیان ہے لہٰذا بیماری ومصیبت کے اظہار سےزیادہ سلامتی اس میں ہےکہ معاملے کو چھپایا جائے اور اگرارادہ اور نیت درست ہوتو اظہار کرنے میں کوئی حَرج نہیں۔
بیماری کا اظہار کرنے کی نیتیں:
	بیماری کے اظہار کی تین نیتیں ہیں۔