باتیں علاج چھوڑدینے کے اسباب ہیں۔
حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے علاج کروانے کی حکمت:
مذکورہ اسباب میں سے ہر سبب عام انسانوں کےاعتبار سے قابل تعریف ہےلیکن مقامِ مصطفٰےکے اعتبار سے عیب ہے کہ یہ مقام ہر مقام سے بلند و بالاہےاور کیوں نہ ہوکہ یہ مقام تقاضا کرتا ہے کہ چاہے اسباب پائیں جائیں یانہ پائے جائیں دونوں صورتوں میں توجّہ کا مرکز ایک ہی ذات ہولہٰذا رسولِ اَکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی توجّہ اسباب کے بجائے اسباب پیداکرنے والی پاک ذات اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر ہی ہوتی تھی اسی وجہ سے اسباب اختیار کرنے کے باوجود توکل میں کوئی فرق نہ آتا۔
اسے یوں سمجھئے کہ مال میں رغبت رکھنا عیب ہےاور مال کوناپسند کرتے ہوئے اس سے بےرغبتی اختیار کرنا اگرچہ قابل تعریف ہےلیکن یہی چیز اس شخص کے لئے عیب ہے جس کے نزدیک مال ہونانہ ہونا برابر ہو لہٰذا سونے اور پتھر دونوں کو برابر سمجھنے والااس شخص سے زیادہ قابل تعریف ہےجوسونے سے بَچے اور پتھر سے نہ بَچے، اگرچہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نزدیک پتھر اور سونا دونوں برابر تھےلیکن کبھی سونا جمع نہ فرمایا کہ اُمت کو مقامِ زُہد کی تعلیم ارشاد فرمانی تھی اور یہ اُمت کی ہمت کا انتہائی درجہ ہے، یہ وجہ نہ تھی کہ حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنے اوپر اعتماد نہ تھاکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مقام اس سے بلند ہےکہ دنیا آپ کو دھوکے میں ڈالے اور کیوں بلند نہ ہوکہ زمین کے خزانے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر پیش کئے گئے تو انہیں قبول کرنے سے منع فرمادیا۔(1) اسی طرح دیگر معاملات میں بھی رسولِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نزدیک اسباب اختیار کرنا نہ کرنا دونوں برابرہیں،آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے علاج سے دوری اس لئے اختیار نہ فرمائی کہ قدرتِ الٰہیہ کے طریقے پر عمل ہوجائے اوراُمت کے لئے آسانی ہوجائے کیونکہ ان کی ضرورتیں اس سے وابستہ تھیں اور اس میں کچھ نقصان بھی نہ تھااوراگر مال جمع فرماتے تو اس میں اُمت کا بہت بڑانقصان ہوتا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سنن الترمذی، کتاب الزھد، باب ما جاء فی الکفاف والصبر علیہ، ۴/ ۱۵۵، حدیث:۲۳۵۴