Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
866 - 882
 ایک عضو کو  تکلیف پہنچے تو ہرعضو تکلیف محسوس کرتاہے۔ ہمارے نزدیک ممانعت کی ظاہری حکمت یہی ہے جبکہ وہ شخص جو ابھی شہر میں داخل نہیں ہوااس کا حکم جُداہے کیونکہ وہاں کی آب وہوا ابھی تک جسم کے اندر اثرانداز نہیں ہوئی اور  نہ ہی شہر والوں کو اس کی ضرورت پڑی، البتہ اگر شہر میں بیماروں کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ بَچےاور پھر کچھ لوگ ان کے پاس مدد کرنے کی نیت سے داخل ہوجائیں تو یہ مستحب ہےاورانہیں شہر میں داخل ہونے سے روکا نہیں جائے گاکیونکہ ضرر پہنچنا ایک وہمی معاملہ ہے جبکہ مسلمانوں کو نقصان سے بچانا یقینی معاملہ ہے۔ اسی وجہ سے بعض روایتوں میں طاعون سے بھاگنے کو جنگ سے بھاگنا قرار دیا ہے(1) کہ اس  میں بھی دیگر مسلمانوں کی حوصلہ شکنی  اور انہیں ہلاکت میں ڈالنے کی کوشش پائی جاتی ہے۔
	 یہ تمام معاملات نہایت باریک ہیں،لہٰذا جو ان میں غور وفکر  نہ کرے اور روایتوں کے ظاہری الفاظ  دیکھےتو اسےکئی روایتیں ایک دوسرے کےخلاف نظر آئیں گی نیز عابدین اور زاہدین کی غلطیاں اس طرح کے معاملے میں بہت زیادہ ہیں اسی وجہ سے علم کو اعزاز اور فضیلت حاصل ہے۔
	سوال:پچھلی گفتگو سے معلوم ہواکہ علاج  چھوڑدیناافضل ہےحالانکہ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے  علاج  کروانے کوپسند فرمایا۔اگر معاملہ ایساہی ہے تو رسولُ اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کیوں اس فضیلت کو ترک فرمایا؟
	جواب:ہم کہتے ہیں کہ علاج چھوڑدینا اس کے لئےافضل  ہے جس کے گناہ زیادہ ہوں کہ علاج چھوڑنا گناہوں کا کفارہ بن جائےیاجسے ڈر ہو کہ صحت مند ہوکر اس کا نفس نافرمان ہوجائے گا نیز اس پر شہوتوں کا غلبہ ہوجائے گایااس غافل کے لئےہےجسے موت  کویاد کرنے کی ضرورت ہویاوہ جو متوکلین اور محبوب بندوں کے مقام کو نہ پاسکےاور علاج چھوڑ کرصابرین کا ثواب پاناچاہےیاوہ شخص جسے معلوم نہ ہوکہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ادویات میں کیاخصوصیات اور فوائد  رکھے ہیں کیونکہ اس کے لئے علاج وہمی ہوگا جیسے جھاڑ پھونک  کروانے کے لئے یابیماری کی وجہ سے ایسی روحانی کیفیت پاتا ہو جو اسے روک رہی ہوکہ علاج کروائے گا تو روحانیت ختم ہوجائے گی اور یہ اپنے کمزور یقین کی وجہ سے صحت کے ساتھ روحانیت نہ پاسکےگاتویہ تمام
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند السیدة عائشة،۹/ ۴۷۸، حدیث:۲۵۱۷۲