Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
865 - 882
سُوال جواب:
	سوال:علاج کا سب سے بہتر طریقہ نقصان دِہ چیز سے پرہیز کرناہےاور جہاں کی آب وہوا ہی نقصان دہ ہو اس مقام کو نہ چھوڑنے کا حکم دیا، اس   فرمان میں کیا حکمت ہے؟
	جواب:جان لیجئے! نقصان دہ چیز سے بچنے سے کسی نے منع نہیں کیاچونکہ پچھنے لگوانے اورفصد کھلوانے میں نقصان دہ چیز سےبچنا پایاجاتاہےلہٰذااس طرح کے معاملات میں توکل نہ کرنے کی بھی اجازت ہے، لیکن اتنی سی  بات سے مقصود ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اعتراض اب بھی باقی ہے، دیکھا جائے تو آب وہَوا سے نقصان پہنچنے کی وجہ اس کا ظاہری بدن سے ٹکرانا نہیں بلکہ مسلسل سانس لینا ہےکہ جب کسی مقام پرجراثیم پائے جائیں اوروہاں زیادہ دیرتک سانس لیاجائےتوجراثیم دل، پھیپھڑوں اور آنتوں کے اندر تک پہنچ جاتے ہیں اور وَبا کا اثر ظاہری بدن پر اس وقت نظر آتاہے جب اندرونی جسم میں کافی دیر تک اثر انداز رہے، عام طور پر ایساہی ہوتا ہےکہ شہر سے باہر نکل  جانے کے باوجود بندہ ان جراثیم سے چھٹکارا حاصل نہیں کرپاتاجو کہ جسم میں اپنی جگہ بناچکےہوتے ہیں، البتہ یہ خیال  پیدا ہوسکتا ہے کہ شاید چھٹکاراپالوں  گااور یہ خیال جھاڑ پھونک   کروانے اور داغ لگوانے وغیرہ وہمی علاج کی   طرح ہے،اگر صرف چھٹکارا پالینے کا خیال ہی ہوتاتو وہاں سے نکلنے کی اجازت ہوجاتی اگرچہ یہ توکل کے خلاف ہوتالیکن منع کرنے کی ایک حکمت اورہے کہ اگر تمام صحت مند افراد وہاں سے نکل جائیں  اور شہر میں طاعون زَدہ مجبور مریضوں کے علاوہ کوئی  باقی نہ رہےتو ان کے دل ٹوٹ جائیں گے، کوئی دیکھ بھال کرنے والاہوگانہ پانی پلانے والااور نہ  ہی کھانا کھلانے والاچونکہ  وہ خودیہ سب کام نہیں کرسکتے اور یقیناً یہ انہیں ہلاک کرنےکی کوشش  ہےحالانکہ  جراثیم سے چھٹکارا پالینا بھی ممکن ہے جس طرح صحت مند افراد کے لئےچھٹکارا پالینا ممکن تھا۔
	ایک حکمت  یہ بھی ہے کہ اگر لوگ شہرمیں ٹھہر تے ہیں تو یہ بات یقینی نہیں کہ انہیں موت آجائےگی  اور اگر نکلتے ہیں توبھی  یہ بات  یقینی نہیں کہ جراثیم سے چھٹکاراپالیں گے لیکن اگر شہر سے تمام صحت مند لوگ نکل جاتے ہیں اور صرف بیمار ہی باقی رہ جاتے ہیں توبیماروں کا ہلاک ہونا یقینی ہے جبکہ مسلمان کی مثال تو اس عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط کئے ہوئے ہوتا ہےاور اس جسم کی طرح ہے جس کے