اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ خَرَجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمْ وَہُمْ اُلُوۡفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ۪ (پ۲،البقرة:۲۴۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اے محبوب کیا تم نے نہ دیکھا تھا انہیں جو اپنے گھروں سے نکلے اور وہ ہزاروں تھے موت کے ڈر سے۔
بالآخر معاملہ حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں پیش کیاگیااور آپ کی رائے معلوم کی گئی تو آپ نے فرمایا:”ہم واپس لوٹیں گے اور وباوالی جگہ نہیں جائیں گے۔“اختلاف رائے رکھنے والےگروہ نے عرض کی:” کیا ہم تقدیر الٰہی سے بچ کر بھاگ سکتےہیں؟“ فرمایا:”ہم تقدیرِالٰہی سے تقدیرالٰہی کی ہی جانب جارہے ہیں۔“یہ کہہ کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک مثال ارشاد فرمائی:”اگر تم میں سے کسی کے پاس بکریوں کا ریوڑ ہو اور وہ ایسی وادی میں پہنچ جائے جس کی ایک جانب تو سرسبز و شاداب ہو جبکہ دوسری جانب بَنجر ہواگر وہ اپنا ریوڑ سرسبز و شاداب حصہ میں چَراتاہے توکیا تقدیرالٰہی کے مطابق نہیں ہوگا،یونہی اپنا ریوڑ بنجر حصہ میں چَرائے توکیا تقدیر الٰہی کے مطابق نہیں ہوگا؟“صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننےکہا:”تقدیرِ الٰہی کے مطابق ہوگا۔“پھر حضرت سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو رائے جاننے کے لئے بلوایا گیا جو کہ اس وقت موجود نہ تھے۔حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس مسئلہ میں ان کی رائے جاننا چاہی تو انہوں نے کہا:”امیر المؤمنین !میری رائے وہ ہےجو میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سنا ہے۔“ یہ سن کر حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرط خوشی سے فوراً کہا:”اللہ اَکْبَر۔“پھر حضرت سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حدیث بیان کی کہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوارشاد فرماتے سناکہ”جب کسی جگہ وبا پھیلنے کی خبر سنو تو وہاں نہ جاؤاور جب کسی جگہ موجود ہووہاں وباپھیل جائے تو وہاں سے مت بھاگو۔“(1) حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اس فرمان کو سن کر بے حد خوش ہوئے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر اداکیاکہ ان کے رائے حدیْثِ پاک کے مطابق ہوئی اور لوگوں کے ساتھ وہاں سے واپس تشریف لے آئے۔
اگر مذکورہ بیماریوں کے علاج معالجہ سے بچناتوکل کی شرط قرار دیا جاتا تویہ کیسے ممکن تھا کہ تمام صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان توکل کو چھوڑ بیٹھیں حالانکہ یہ حضرات توکل کے بلند درجے پر فائز تھے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…بخاری، کتاب الطب، باب ما یذکر فی الطاعون، ۴/ ۲۸، حدیث:۵۷۲۹