Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
863 - 882
	اس میں کوئی شک نہیں کہ مریض کو موت زیادہ یاد آتی ہے۔ لہٰذامتوکلین نےجب بیماری کےاتنے فضائل دیکھےتو انہوں نے علاج کروانا چھوڑ دیاتاکہ زیادہ ثواب پاسکیں، یہ وجہ نہ تھی کہ ان کے نزدیک علاج کروانا نقصان دہ عمل تھا اورایسا عمل نقصان  دہ ہوبھی کیسے سکتاہےجو دو جہاں کے مالک  ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنَّتِ مبارَکہ ہو۔
آٹھویں فصل:		  علاج بالکل نہ کرنے کو اچھا جاننا درست نہیں
	اگر کوئی کہے کہ علاج کروانا سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے عمل مبارک کی وجہ سےاُمت کے لئے سنّت ہوگیا ہے ورنہ یہ عمل ان کا ہےجن کا یقین کمزور ہولہٰذامضبوط یقین والوں پر علاج چھوڑ کر توکل کرنا واجب ہے توایسے شخص کو یوں کہاجائے کہ پھر تو خون کی گرمی کے وقت پچھنے اور فصد سے بچنے کو شرط قرار دیا جائے ،اگر وہ  جواباً کہے:”یہ بھی شرط ہے۔“تو پوچھاجائے:”اگر یہ بات ہے تو پھر بچھو یا سانپ کے کاٹنے پران کے زہریلے اثرات دور نہ کرنا بھی شرط ہوناچاہئے کیونکہ خون کی گرمی باطن کو ڈستی ہے تو بچھو ظاہر کو ڈستاہے،ان دونوں میں کیا فرق ہے؟“اگر وہ شخص اسے بھی شرط قرار دےتوکہا جائے:”پھر تو پانی کے ذریعے پیاس  بجھانی چاہئے نہ روٹی کے ذریعے بھوک مٹانی چاہئے اور نہ ہی گرم کپڑوں کے ذریعے سردی سے بچنا چاہئے۔“ایسی بات کا کوئی اقرار نہیں کرتا نیز ان تمام درجات میں کوئی فرق نہیں کیونکہ ان تمام اسباب کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ترتیب دیا ہےاور ایک مخصوص طریقے پر جاری فرمادیاہے۔
	مذکورہ تمام باتوں کا توکل کی شرط نہ ہونے کی دلیل صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا وہ واقعہ ہے کہ جب امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے ساتھ  ملک شام کی جانب سفر کیا اور مقام ’’جابیہ‘‘ کے قریب  پہنچےتو خبر آئی کہ شام میں  ایک وَباپھوٹنے کی وجہ سے کافی اموات ہوچکی ہیں،اب صحابَۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان دو رائے میں تقسیم ہو گئے، ایک گروہ کی رائے تھی ہم وبا والے مقام پر نہیں جائیں  گے کہ یہ خود کو ہلاکت پر پیش کرناہے جبکہ دوسرے گروہ کا کہناتھاہم جائیں گےاور توکل کریں گے کہ ہم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی تقدیر سے  بھاگ سکتےہیں نہ موت سےاور اگر ہم نے ایسا کیا توکہیں ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کے بارے میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ارشادفرمایا: