بخار مومن کا حصہ ہے:
حضرت سیِّدُنا عمار بن یاسر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےایک عورت سے نکاح کیا،وہ کبھی بیمار نہ ہوئی تو آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے طلاق دےدی۔
بارگاہِ رسالت میں ایک عورت کےاوصاف بیان کئے گئےیہاں تک کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے نکاح کا ارادہ فرمالیا لیکن کسی نے یہ وصف بیان کردیاکہ وہ کبھی بیمار نہیں پڑی۔نبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘(1)
ایک مرتبہ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دیگر امراض و تکالیف کے ساتھ ساتھ دردِ سَر کا تذکرہ فرمایاتو ایک شخص نے عرض کی:”یہ دردِسَر کیا ہوتاہے؟میں اسے نہیں جانتا۔“ارشاد فرمایا:”مجھ سے دور ہوجا!جوکسی جہنمی کو دیکھنا چاہےوہ اسے دیکھ لے۔“(2)
ایسا اس لئے ارشاد فرمایا گیا کہ حدیْثِ پا ک میں ہے :”بخار ہر مومن کا حصہ ہے جوکہ جہنم کی آگ سے(اسے پہنچنا)تھا۔“(3)
روزانہ موت کو20 مرتبہ یاد کرو:
حضرت سیِّدُنا انس اور حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہےکہ کسی نےبارگاہِ رسالت میں عرض کی:”یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیاقیامت کےدن شہادت کے درجہ پر شہیدوں کے علاوہ کوئی فائز ہوگا؟“ ارشاد فرمایا:”ہاں!جوشخص روزانہ موت کو 20 مرتبہ یادکرے۔“(4)
ایک روایت میں ہے:”اس شخص کا ذکر فرمایا جو اپنے گناہوں کو یاد کرکے غمگین ہوجائے ۔“(5)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند انس بن مالک بن النضر، ۴/ ۳۱۱، حدیث:۱۲۵۸۱
2…المسندللامام احمدبن حنبل،مسند ابی ھريرہ، ۳/ ۲۲۸، حديث:۸۴۰۳
3…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب المرض والکفارات، ۴/ ۲۷۰، حدیث:۱۶۰
4…المعجم الاوسط، ۵/ ۳۸۱، حدیث:۷۶۷۶، بتغیر
5…قوت القلوب،شرح مقام التوکل ووصف احوال المتوکلین، ۲/ ۴۳