Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
861 - 882
فرعون کے خدائی کا دعوٰی کرنے کی وجہ:
	ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: فرعون کےخدائی کا دعوٰی کرنے کی وجہ یہ تھی  کہ وہ طویل عرصہ تک صحت مند رہاکہ400سال گزر گئے مگراس کے سر میں نہ دردہوانہ کبھی بخار ہوا اور نہ ہی کبھی کسی رَگ میں تکلیف ہوئی،اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی اس پر لعنت ہواگر کسی دن آدھے سر میں بھی درد ہوجاتاتوخدائی کا دعوٰی کرنا تو دورکی بات فضول کاموں سے ہی جان چھڑالیتا۔
موت کا قاصد:
	رسولِ اَکرم،شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”لذتوں کو ختم کرنے والی موت کا کثرت سے ذکر کیا کرو۔“(1) اورکہا گیا ہے کہ بخار موت کا قاصد ہے۔(2)
	یعنی بخار موت کی یاد دلاتااور عمل کرنے میں سستی کو بھگاتاہے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:  اَوَلَا یَرَوْنَ اَنَّہُمْ یُفْتَنُوۡنَ فِیۡ کُلِّ عَامٍ مَّرَّۃً اَوْ مَرَّتَیۡنِ ثُمَّ لَایَتُوۡبُوۡنَ وَلَاہُمْ یَذَّکَّرُوۡنَ ﴿۱۲۶﴾ (پ۱۱،التوبة:۱۲۶)
ترجمۂ کنز الایمان:کیا انھیں نہیں سوجھتا کہ ہرسال ایک یا دو بار آزمائے جاتے ہیں پھر نہ تو توبہ کرتے ہیں نہ نصیحت مانتے ہیں۔
	اس آیت کی تفسیر میں کہا گیا ہے کہ آزمانے سے مراد بیماریوں میں مبتلا کرنا ہے۔
	حدیْثِ پاک میں ہےکہ جب بندہ دو مرتبہ بیمار ہوجائےاور توبہ نہ کرےتو ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَام اس سے کہتے ہیں:”اے غافل شخص!میری جانب سے تیرے پاس ایک کے بعد ایک قاصد آیا لیکن تو نے کوئی جواب نہ دیا۔‘‘(3)
	ہمارے بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کایہ طریقہ کار ہوتاکہ اگر کسی سال جان یا مال پر کوئی مصیبت نہ آتی تو گھبراجاتے اور کہتے:”مومن کو ہر40دن میں کوئی نہ کوئی گھبرادینے والامعاملہ یا آزمائش  ضرور پہنچتی ہے۔‘‘
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… سنن الترمذی، کتاب الزھد، باب ما جاء فی ذکر الموت، ۴/ ۱۳۸، حدیث:۲۳۱۴
2…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب المرض والکفارات، ۴/ ۲۴۹، حدیث:۹۲
3…حلیة الاولیاء، مجاھد بن جبر، ۳/ ۳۳۳، حدیث:۴۱۶۲