بیماری جب گناہوں کی سواری اور نافرمانی کے آگے رُکاوٹ بنے تو اس سے بہتر اور کیا بات ہوگی لہٰذا جسے نفس کی سَرْکشی کا ڈر ہواسے علاج کروانا مناسب نہیں ہےکیونکہ گناہوں سے بچے رہنےمیں ہی سلامتی ہے۔
گناہ سے بڑھ کر کون سی بیماری ہے؟
ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے کسی شخص سےپوچھا:”مجھ سے جُدا ہوکر کیسےرہے؟“اس نے کہا:”صحیح سلامت رہا۔“بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےفرمایا:”اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی نہ کی توسلامتی کے ساتھ رہے اور اگر نافرمانی کرچکے ہوتو گناہ سے بڑھ کر کون سی بیماری ہےکہ جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کرے اس کے لئے کوئی سلامتی نہیں۔‘‘
سیِّدُنا علیرَضِیَ اللہُ عَنْہاور یوم عید:
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی کَرَمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نےعید کےدن عراق کی ایک نبطی قوم کو زیب و زینت کرتے دیکھ کر فرمایا:ان لوگوں نے یہ کیا طریقہ اپنایاہواہے؟لوگوں نے کہا: امیر المؤمنین ! یہ ان کی عید کا دن ہے۔ یہ سُن کر حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا:”ہروہ دن جس میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی نہ ہو وہ ہمارے لئے عید کا دن ہے۔“
راحت میں نافرمانی کے متعلق دوفرامین باری تعالیٰ:
(1)… مِّنۡۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىکُمۡ مَّا تُحِبُّوۡنَؕ (پ۴،اٰل عمرٰن:۱۵۲)
ترجمۂ کنز الایمان:بعد اس کے کہ اللہ تمہیں دکھا چکا تمہاری خوشی کی بات۔
کہا گیا ہے کہ اس سے مراد عافیت میں نافرمانی کا ارتکاب کرنا ہے۔
(2)… کَلَّاۤ اِنَّ الْاِنۡسَانَ لَیَطْغٰۤی ۙ﴿۶﴾ اَنۡ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰی ﴿ؕ۷﴾ (پ۳۰،العلق:۶، ۷)
ترجمۂ کنز الایمان:ہاں ہاں بےشک آدمی سرکشی کرتا ہے اس پر کہ اپنے آپ کو غنی سمجھ لیا۔
اسی طرح آدمی صحت و عافیت کی وجہ سے بھی کسی کو خاطر میں نہیں لاتا۔