Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
86 - 882
 عُلَمائے عظامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام جاہلوں کے سبب آزمائش سے نہیں بچ پاتے۔ اس لئے ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ اولیائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام طرح طرح کی تکلیفوں اور مختلف قسم کی آزمائشوں سے محفوظ رہتے ہوں۔ کبھی انہیں ملک بدر کردیا جاتا ہے، کبھی حکمرانوں کے سامنے ان کی چغلی کھائی جاتی ہے اور کبھی ان کے خلاف کفر اور دین سے خارج ہونے کی گواہی دی جاتی ہے اور اہْلِ معرفت جاہلوں کے نزدیک لازمی  طور پر کافر قرار پاتے ہیں جیسے اونٹ کو قیمتی موتی کے عوض فروخت کرنے والے شخص کو جاہل لوگ فضول خرچ اور مال ضائع کرنے والا کہتے ہیں۔
	ان گہری باتوں کو جاننے کے بعد فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اپنا  ایمان پختہ کرلو کہ ”جو شخص سب سے آخر میں جہنم سے نکالا جائے گا اس کو دنیا کا10 گُنا عطا ہو گا۔“
رب کی دی ہوئی امانت میں خیانت نہ کرو:
	تصدیق کو صرف آنکھوں اور حواس کے ذریعے  معلوم ہونے والی باتوں میں منحصر نہ کرو کہ اس طرح تو تم  دو ٹانگوں والے گدھے ہوگے کیونکہ حواس خمسہ میں تو گدھا بھی تمہارا شریک ہے۔ تم گدھے سے ممتاز ہو اُس سِرِّالٰہی کی وجہ سے جسے آسمان، زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا گیا تو انہوں نے اسے اٹھانے سے انکار کردیا  اور اس کا بوجھ سہار نہ سکے۔ تو جو بات عالَمِ حواسِ خمسہ کے اِدراک سے بالاتر ہو اس کا تعلق اسی عالَم سِر سے ہے جس کی وجہ سے انسان گدھے اور باقی جانوروں سے ممتاز ہوتا ہے۔
	تو جس شخص نے  اس بات سے غفلت برتی اور اسے بےکار چھوڑدیا اور صرف جانوروں کے درجہ پر قناعت کی اور درجۂ محسوسات سے آگے نہ بڑھا پس اس شخص نے اپنی اس  کوتاہی اور اعراض کی وجہ سے اپنے آپ کو ہلاک کرلیا۔ تم ان جیسے نہ ہو جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو بھول بیٹھے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے انہیں بَلا میں ڈالا کہ اپنی جانیں یاد نہ رہیں۔ کیونکہ جو شخص حواسِ ظاہرہ کے  ادراکات کے علاوہ کسی شے کی مَعْرِفَت حاصل نہیں  کرتا تو اس نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو بھلادیا کیونکہ اس عالَم میں حواسِ خمسہ ظاہرہ کے ذریعےذاتِ باری تعالیٰ کی معرفت نہیں ہوسکتی  اور جو شخص اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو بھلادیتا ہے تو  یقیناً اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے خود اس کی اپنی ذات سے غافل کردیتا ہے اور  وہ شخص جانوروں کے مقام پر اُتر آتا ہے اور مَلائے اعلیٰ کی طرف ترقی  کا سَفَر روک دیتا ہے اور