اور آزمائشوں سے خوش نہیں ہوتاوہ عالِم نہیں ہوسکتاکیونکہ امید ہے کہ وہ گناہوں کے لئےکفارہ ہوں۔“
درجات میں اضافے کا باعث:
حضرت سیِّدُنا موسٰی عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ایک شخص کو بڑی آزمائش میں مبتلادیکھاتو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی:”اے میرے رب عَزَّ وَجَلَّ !اس پر رحم فرما۔“اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشادفرمایا:”جو رحم اس پر ہورہا ہے اس سے زیادہ اور کیا رحم ہوگا۔“یعنی اس آزمائش کےذریعے اس کے گناہوں کو معاف کرکے اس کے درجات میں اضافہ کیا جارہاہے۔
٭…چھٹا سبب:(علاج نہ کروانے کا ایک سبب یہ ہے کہ)بندے کے دل میں یہ خوف پیدا ہوکہ زیادہ عرصہ تک صحت مند رہنے کی وجہ سے کہیں تکبر اورسرکشی میں نہ پڑجاؤں۔ ایسی صورت میں اس خوف سے بھی علاج چھوڑ سکتا ہے کہ کہیں علاج کی وجہ سے مرض دورہونے کے باعث وہ غفلت،تکبر اور نافرمانی میں مبتلانہ ہوجائے، یونہی لمبی امیدیں رکھنے،واجبات کی ادائیگی میں سستی کرنے اور نیکیوں میں ٹالْ مَٹول کرنے والانہ بن جائے۔
صحت مند کی تعریف:
صحت منداسےکہاجاتاہےجس کی جسمانی صفتیں طاقتور ہوں کیونکہ انہیں کے ذریعے خواہشات ابھرتی ہیں اورپھر بھڑ ک کر گناہوں کی طرف بلاتی ہیں یاکم از کم جائز طریقہ سے لطف اندوز ہونے کی طرف ضرور بلاتی ہیں جوکہ وقت کا ضیاع ہےاور اطاعت پر ہمیشگی اور نفس کی مخالفت اختیار کرکے حاصل ہونے والے بہت بڑے ثواب سے محرومی کا باعث بھی ہے۔
بندۂ مومن جسمانی بیماری سے نہیں بچ سکتا:
جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کسی کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتاہےتو اسے بیماری اور آزمائش میں مبتلاکرکے تنہا نہیں چھوڑتا۔ اسی وجہ سے کہاجاتاہےکہ مومن بندہ جسمانی بیماری ، مال کی کمی یا رسوائی سے بچ نہیں سکتا۔ حدیث پاک میں ہےکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّارشادفرماتا ہے:”مفلسی میراقید خانہ جبکہ بیماری میری بیڑی ہےاورمخلوق میں سے جسے محبوب رکھتاہوں اسے اس کے ساتھ باندھ دیتاہوں ۔“(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…قوت القلوب،شرح مقام التوکل ووصف احوال المتوکلین، ۲/ ۳۸