(2)…ایک دن کا بخار سال بھر کے گناہوں کا کفارہ ہے۔(1)
ایسا اس لئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ بخار سال بھر کی طاقت ختم کردیتاہےاوریہ بھی کہاگیاہے کہ انسان کے360جوڑ ہوتےہیں(2) اور بخار ہر جوڑ پر اثرانداز ہوتاہے(3) لہٰذا ہرہر جوڑ تکلیف محسوس کرتا ہے جس کی وجہ سے ہر جوڑ ایک دن کا کفارہ بن جاتاہے۔
جب شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےیہ ارشاد فرمایا:”بخار گناہوں کا کفارہ ہے۔“(4) تو حضرت سیِّدُنا زید بن ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ہمیشہ بخارمیں رہنے کی دعا کی۔ چنانچہ انتقال فرمانے تک آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہپر بخار کی کیفیت طاری رہی۔(5)
چند انصاری صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے بھی یہی دعاکی تو ان پر بھی (انتقال فرمانے تک)بخار کی کیفیت طاری رہی۔(6)
نابینا ہونے کی تمنا:
جب نبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”اللہ عَزَّ وَجَلَّ جس بندے کی دو نوں آنکھیں لےلیتا ہے تو اس کےلئے جنّت سے کم ثواب پر راضی نہیں ہوتا۔“(7) یہ سن کر کئی انصاری صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نابینا ہونےکی تمنا کرنے لگے۔
آزمائش پر خوش نہ ہونے والا عالِم نہیں:
حضرت سیِّدُنا عیسٰی عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا:”جو شخص اپنے جسم اور مال پر آنے والی بیماریوں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب المرض والکفارات، ۴/ ۲۳۹، حدیث:۵۰
2…سنن ابی داود، کتاب الادب، باب فی اماطة الاذی عن الطریق، ۴/ ۴۶۱، حدیث:۵۲۴۲
3…المصنف لابن ابی شیبة، کتاب الجنائز، باب ما قالوا فی ثواب الحمی والمرض، ۳/ ۱۱۹، حدیث:۱۸
4…مسلم، کتاب البر والصلة، باب ثواب المؤمن فیما یصیبہ…الخ، ص۱۳۹۲، حدیث:۲۵۷۵، مفھومًا
5…قوت القلوب،شرح مقام التوکل ووصف احوال المتوکلین، ۲/ ۳۹
6…شعب الایمان للبیھقی، باب فی الصبر علی المصائب، ۷/ ۱۹۵، حدیث:۹۹۷۰
7…سنن الترمذی، کتاب الزھد، باب ما جاء فی ذھاب البصر، ۴/ ۱۸۰، حدیث:۲۴۰۸، ۲۴۰۹