Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
857 - 882
 ہے اور نیک اعمال کی طاقت نہیں  رکھتالیکن نیک اعمال کرنےاورکھڑے ہوکر نماز پڑھنے کے لئےاپنا علاج کروا رہا ہےتو حیران ہوکر فرماتے:”جسمانی قوت حاصل کرنےاورکھڑے ہوکر نماز پڑھنے کےلئے علاج کروانے سے بہتر ہےکہ بندہ بیمار ہوکر رضائے الٰہی  پر راضی رہےاور بیٹھ کرنماز پڑھے۔“
(3)…جب آپ سے دوا استعمال کرنے کےمتعلق پوچھا جاتاتو فرماتے:”دوا استعمال کرناجائز ہے کہ  اس میں کمزور یقین والوں کے لئے گنجائش ہے، البتہ دوا کے استعمال سے بچناافضل ہے کیونکہ جو بھی دوا استعمال کی جائے اگرچہ ٹھنڈاپانی ہو اس  کے متعلق ضرور پوچھا جائے گااور جو استعمال نہ کرے گا اس سے کوئی سوال بھی نہ ہوگا۔“
	حضرت سیِّدُنا سہل تُستری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاوربصرہ کےمتوکلین اسی راستے کو اپنائے ہوئے تھے کہ خواہشات کی مخالفت اور بھوک  برداشت کرکےنفس کو کمزور کیاجائےکیونکہ یہ جانتے تھے کہ توکل،صبر وغیرہ دل کے اعمال کا ایک ذرّہ اور جسمانی اعمال کے پہاڑ برابر عمل سے بھی افضل ہےاور مرض دل کے اعمال میں رکاوٹ اسی وقت بنتاہے جب تکلیف زیادہ ہو اور بدحواس کردے۔
(4)…مزید فرماتے ہیں:” جسمانی بیماری رحمت ہے جبکہ دل کی بیماری سزا ہے۔“
٭…پانچواں سبب:(علاج نہ کروانے کا ایک سبب یہ ہے کہ)بندے سے ماضی میں کچھ گناہ سرزد ہوگئے ہوں جن کے بارے میں وہ خوف زدہ ہواور اس کے کفارے سے عاجزبھی  ہو تو یوں نیت کرلے کہ بیماری بڑھ کر اس کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گی اور یہ خوف کرتے ہوئے علاج چھوڑدے کہ کہیں مرض جلد ختم نہ ہوجائے۔
بخارکی فضیلت پر مشتمل دو فرامین مصطفٰے:
(1)…بندہ بخار اورتپش میں پڑا رہتاہےیہاں تک کہ زمین پرچلتاہے تواس پربرف کے اولے کی طرح کوئی گناہ باقی نہیں رہتا۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب المرض والکفارات، ۴/ ۲۸۵، حدیث:۲۱۱
	سنن الترمذی، کتاب الطب، باب التداوی بالرماد، ۴/ ۲۵، حدیث:۲۰۹۳
	سنن الترمذی، کتاب الزھد، باب ما جاء فی الصبر علی البلاء، ۴/ ۱۷۹، حدیث:۲۴۰۶