Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
856 - 882
 ان پر صبر کرکے ثواب پاسکیں یہاں تک کہ ان میں سےکوئی بیمار ہوجاتاتو اپنی بیماری چھپاتااور طبیب کو نہ بتاتا نیز تکلیف برداشت کرتااور رضائے الٰہی پر راضی رہتاکیونکہ وہ جانتاتھاکہ دل پر محبَّتِ الٰہی اس قدرغالب ہے کہ جسمانی بیماری اسے کم نہیں کرسکتی جبکہ مرض صرف جسمانی عبادت میں رکاوٹ بنتاہے نیزیہ بھی جانتا تھا کہ حالَتِ صحت میں کھڑےہوکرنماز پڑھنےسےبہترہےکہ بندہ تقدیر کے فیصلہ پر راضی  ہوکربیٹھ کر نماز پڑھے۔
	حدیْثِ پاک میں ہےکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ فرشتوں سے فرماتاہے: میرے بندے کے لئے وہ نیک اعمال لکھو جو وہ کرتا تھا کہ وہ میری قید میں ہے،اگر اسے آزاد کیا تو پہلے سے اچھا خون اور گوشت دوں گا اور اگر وفات دی تو اپنی رحمت کی جانب بلوالوں گا۔(1)
بہترین عمل:
	مروی ہے کہ”بہترین عمل وہ ہے جسےنفس دشوار جانے۔“(2) کہا گیا ہے کہ اس  حدیْثِ پاک کا معنیٰ یہ ہےکہ جس پر بیماریاں اور مصیبتیں آئیں۔ آیت مبارکہ سےبھی  دشوار عمل کی فضیلت کی جانب اشارہ ملتا ہے۔چنانچہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے: وَعَسٰۤی اَنۡ تَکْرَہُوۡا شَیْـًٔا وَّہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمْۚ (پ۲،البقرة:۲۱۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو۔
سیِّدُنا سہل تُستری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے اقوال:
(1)…حضرت سیِّدُنا سہل تُستری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:”نیکیاں کرنے کےلئے علاج کروانے سے بہتر ہے کہ علاج چھوڑدیاجائے اگرچہ نیکیوں اور فرائض میں کمی ہو۔“
(2)…جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  ایک  بڑی بیماری میں مبتلاہوئے تواپنا علاج نہ کروایا حالانکہ دوسرے لوگ اس بیماری کا علاج کروایاکرتے تھے اورجب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کسی شخص کو یوں پاتے کہ بیٹھ کر نماز پڑھتا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبد اللہ بن عمرو، ۲/ ۵۵۱، حدیث:۶۴۹۲
	المستدرک، کتاب الجنائز، باب المریض یکتب لہ…الخ، ۱/ ۶۷۰، حدیث:۱۳۳۰
	کتاب المجروحین لابن حبان ، ۱/ ۲۶۱، الرقم: ۱۹۸الجارودبن یزیدالعامری ابوعلی
2…العقد الفرید لابن عبد ربہ الاندلسی، کتاب الزمردة فی المواعظ والزھد، مکتابة جرت بین الحکماء، ۳/ ۹۶