رزق کیا ہے؟
حضرت سیِّدُنا سہل بن عبداللہ تُستَرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے کسی نے پوچھا:رزق کیا ہے؟ فرمایا:ہمیشہ زندہ رہنے والی ذات کی یاد۔اس نےکہا:میرا سوال جسمانی رزق کے بارے میں ہے۔ فرمایا:جسمانی رزق علم ہے۔اس نے کہا:میں غذا کے بارےپوچھ رہاہوں۔فرمایا:غذا ذکرالٰہی۔بالآخر اس نے کہا:میرا مطلب کھانے والی جسمانی غذا ہے؟فرمایا:تمہیں جسمانی غذا سے کیا کام! یہ معاملہ اسی پر چھوڑ دو جس کے ذِمَّۂ کَرَم پر پہلے تھا، آئندہ بھی اسی کےذِمَّۂ کَرَم پر ہوگا، جب بیماری آئے تو اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سپرد کردینا، کیا تم نہیں جانتے کہ جب چیز میں کوئی خرابی پیدا ہوجائے تو بنانے والے کو واپس دے دی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ اس کی خرابی دور کردیتا ہے۔
٭…تیسرا سبب:(علاج نہ کروانے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ)بیماری پرانی ہوجائے اور جس علاج کا مشورہ دیا گیا ہے اس سے شفا ملنا یقینی ہونہ ظنی بلکہ وہمی ہویعنی داغ لگوانےاورجھاڑ پھونک کروانےکی طرح ہو۔ ایسی صورت میں ”مُتَوَکِّلْ“ علاج چھوڑسکتاہے۔
حضرت سیِّدُنا رَبیع بن خَیْثَم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا یہ فرمان اسی جانب اشارہ کرتا ہے:”مجھے قوم عاد و ثمود وغیرہ کئی قومیں یاد آگئیں کہ ان میں طبیب بھی تھے اور طبیب و مریض دونوں ہی ہلاک ہوگئے۔“یعنی دَوا پر اعتمادنہیں ہونا چاہئے، اس لئے کہ کبھی دوا اَزخود فائدہ مند نہیں ہوتی اورکبھی مریض کےلئے فائدہ مند نہیں ہوتی کہ اسے علم طب پر کوئی مہارت ہوتی ہے نہ اس بارے میں کوئی تجربہ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اَدْوِیات پرتجربہ کار طبیب کا اعتماددوسروں سے کہیں زیادہ ہوتاہے اور اسی اعتماد کی بنا پر اس کا یقین بھی زیادہ ہوتاہے کیونکہ اعتماد تجربہ سے حاصل ہوتاہے۔
علاج نہ کروانے والے عبادت گزاروں میں سے اکثر کی دلیل یہی ہےکہ دَواسے شفا ملنایقینی یا ظنی کے بجائے وہمی اور ناقابل اعتبارہے۔ماہریْنِ طب کے نزدیک یہ بات بعض ادویات کے متعلق تودرست ہےجبکہ بعض کے متعلق بالکل درست نہیں۔ البتہ عام شخص کبھی تمام ادویات کو ایک ہی نظر سے دیکھتا ہے تو اسے یوں معلوم ہوتاہےکہ علاج کرواکر اسباب میں ڈوب جانا ایسا ہی ہے جیساجسم پر داغ لگوانا اور جھاڑ پھونک کروانا،لہٰذا وہ توکل کرتے ہوئے علاج چھوڑ دیتاہے۔