سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا کشف:
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا علاج نہ کروانے کی وجہ یہی سبب تھا کہ آپ اہْلِ کَشْف سے تھے جبھی آپ نے حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے میراث کے معاملہ میں فرمایا:تمہاری دوبہنیں ہیں۔(1) حالانکہ اس وقت ان کی ایک ہی بہن حضرت سیِّدَتُنا اسما رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا تھیں۔ دو بہنیں فرمانے کی وجہ یہ تھی کہ ان کی زوجہ محترمہ حاملہ تھیں جن سے ایک بچی نے پیدا ہونا تھا۔
معلوم ہواکہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے کشف سے جان لیا کہ ان کی زوجہ کےپیٹ میں ایک بچی ہے۔ جس طرح آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ جان لیا تو کشف کے ذریعے آپ کا اپنی وفات کا جان لیناآپ کے لئےذرا بھی مشکل نہ تھاکیونکہ آپ کے بارے میں یہ گمان کیا ہی نہیں جاسکتا کہ پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو علاج کراتے اور اس کا حکم دیتےہوئے دیکھیں اور خود علاج نہ کروائیں۔
٭…دوسرا سبب:(علاج نہ کروانے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ)جب مریض توکل کے ساتھ ساتھ فکر آخرت میں مصروف رہتے ہوئے اپنا ذہن یوں بنالے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی حالت کو جانتاہےتووہ اپنے مرض کی تکلیف بھول جاتا ہے اورپھراس کا دل علاج کی طرف مائل نہیں ہوتا۔
اس کی دلیل حضرت سیِّدُناابوذَر غفّاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا قول ہے جو آپ نے آنکھوں کا علاج نہ کرواتے ہوئے فرمایا:”مجھے ان کی فکر نہیں۔“ ایک اور دلیل حضرت سیِّدُناابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا قول ہے کہ انہوں نے فرمایا:”مجھے گناہوں کا مرض ہے۔“ان کا یہ فرمانا اس وجہ سے تھا کیونکہ ان کادل گناہوں کے خوف سے اس قدر رنج وغم میں مبتلاہوجاتاتھاکہ جسمانی بیماری کی تکلیف کی اہمیت بالکل نہ رہتی تھی۔ اس کی مثال یوں ہے کہ کسی شخص کا کوئی رشتہ دار فوت ہوجائے یا اسےسزائے موت کے لئے کسی بادشاہ کے پاس لےجایاجا رہا ہو اور اس سے کہاجائے:”تمہیں بھوک لگی ہے کھانا کھاؤگے؟“تو وہ جواب دے گا:”مجھے بھوک کا احساس نہیں ہے۔“اس انکار کایہ مطلب نہیں ہے کہ کھاناکھانے کا کوئی فائدہ نہیں اور نہ یہ مطلب ہے کہ کھانا کھانے والے کو برا کہاجائے۔ حضرت سیِّدُنا سہل بن عبداللہ تُستَرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کےکلام سے بھی یہی مطلب سمجھ آتاہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…الموطا للامام مالک، کتاب الاقضیة، باب مالا یجوز من النحل، ۲/ ۲۷۰، حدیث:۱۵۰۳