علاج کیوں نہیں کرواتے؟“فرمایا:”میں نے ارادہ کیا تھاپھر مجھے یاد آیا کہ قوم عاد وثموداور کنویں والے اور ان کے درمیان جو بہت سی قومیں گزریں ان میں طبیب بھی تھےاور طبیب و مریض دونوں ہی ہلاک ہوئے(1) انہیں ان کے علاج نے کوئی فائدہ نہ دیا۔“
حکایت:علاج نہ کروانا بہتر ہے
(5)…حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَوَّل فرماتےہیں:میں یہ پسند کرتا ہوں جو شخص توکل کا دعوٰی کرتے ہوئے اس پر چلے اس کےلئے بہتر یہی ہےکہ علاج کے معاملہ میں دوائی وغیرہ استعمال نہ کرے۔(2)
(6)…آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو کئی بیماریاں تھیں اور طبیب کے پوچھنےکے باوجود ان کا اظہار نہ کیاکرتے۔
توکل کب صحیح ہوتا ہے؟
حضرت سیِّدُنا سہل بن عبداللہتُستری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے کسی نے پوچھا:”بندے کا توکل کب صحیح ہوتا ہے؟“ فرمایا:”جب بندہ بیمار ہواور مالی نقصان ہوتوتوکل کی کیفیت میں ان کی طرف بالکل توجّہ نہ کرے بلکہ یوں دیکھے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کےتمام کام سنواردے گا۔“(3)
علاج نہ کروانے کے چھ اسباب:
بےشمار اکابرین ایسے ہیں جنہوں نے علاج بالکل نہ کیا جبکہ بعض نے اسے ناپسند کیا، اب اس کی وضاحت علاج نہ کرنے کے اسباب ذکر کرکے ہی ممکن ہےکہ علاج نہ کرنے کے باوجود کس طرح نبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے افعالِ مُبارَکہ پر عمل ممکن ہے۔
٭…پہلا سبب:مریض کا تعلق اہْلِ کَشْف سے ہواور اسے کشف ہوجائے کہ اس کی موت کا وقت آچکا ہے اور اب دَوا کوئی فائدہ نہ دے گی۔ یہ بات کبھی اسے سچے خواب کے ذریعے معلوم ہوتی ہےتو کبھی تجربہ اور گمان کے ذریعے اور کبھی حقیقی کَشْف کے ذریعے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزھد لابن المبارک فی نسختہ زائدا، باب فی الصبر علی البلاء، ص۲۵، حدیث:۱۰۰
2…قوت القلوب،شرح مقام التوکل ووصف احوال المتوکلین ، ۲/ ۳۶
3…قوت القلوب،شرح مقام التوکل ووصف احوال المتوکلین، ۲/۲۵، ۲۶