Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
850 - 882
حکایت:جسم داغنے کا نقصان
	ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا عمران بن حصین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیمار ہوگئے، لوگوں نے آپ کوجسم پر داغ لگوانے کا مشورہ دیاتو آپ نے منع کردیا۔ لوگوں کے اصرار اور حاکمِ وقت کے مجبور کرنے پر آپ نے اپنے جسم پر داغ لگوالیا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرمایاکرتے:”پہلے میں نور دیکھا کرتا تھا، آوازیں سنا کرتا تھا، فرشتے مجھے سلام کیاکرتے تھے اور جب سے داغ لگوایاہےیہ سب چیزیں مجھ سے جدا ہوگئیں۔“اور یہ بھی فرمایاکرتے:”میں نے کئی مرتبہ جسم پر داغ لگوائے مگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم!کچھ فائدہ ہوا نہ اس مرض سے چھٹکارا ملا پھر میں نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کی تو  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے فرشتوں کے ساتھ پہلے والے معاملات مجھ پر ظاہر فرمادئیے۔“
فَرِشتوں سے ملاقات کا اِعزاز:
	ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا عمران بن حصین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا مُطَرِّف بن عبداللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے فرمایا:”کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے فرشتوں کے معاملات لوٹاکر مجھے اعزاز بخشا ہے؟“آپ نے یہ جملہ اس وقت ارشاد فرمایاجب حضرت سیِّدُنا مُطَرِّف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کوفرشتوں کے معاملات جدا ہونےکا علم تھالیکن واپس لوٹانے کا علم نہ تھا۔
	داغ لگوانااوردیگر اس طرح کے علاج ”مُتَوَکِّلْ“ کے لئے کسی طرح مناسب نہیں، انہیں اختیار کرنے کے لئے کوششیں صَرف کرنا قابل مذمت ہے۔دلیل یہ ہےکہ ان معاملات میں بہت زیادہ غورو فکر اور اسباب پر بھروسا کرناپڑجاتاہے۔
ساتویں فصل :		بعض اوقات علاج نہ کرنا خلافِ سُنَّت نہیں بلکہ قابل تعریف اور مضبوط توکل ہے
	جان لیجئے! جہاں بے شمار بزرگانِ دین  نےعلاج کروایاہے وہاں اکابرین کی ایک بڑی جماعت نے علاج چھوڑا بھی ہے۔ کسی کو یہ گمان پیدا ہوسکتاہے کہ علاج چھوڑ دینا نقصان دہ عمل ہے، اگر علاج نہ کرنے میں فضیلت ہوتی تو پیارے آقا  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی علاج نہ کرواتےکیونکہ کسی کا توکل آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بہتر نہیں۔