Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
85 - 882
قابِلِ رحم لوگ:
	جیسے جوہری دیہاتی آدمی کو اونٹ اور موتی کا موازنہ سمجھانے میں قابِل رَحم ہوتا ہے ایسے ہی عارف آدمی بےوقوف کو یہ موازنہ (یعنی دنیا کی مثل دس گنا) سمجھانے میں قابل رحم ہوتا ہے۔ چنانچہ حضور نبیّ رحمت، شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:اِرْحَمُوْا ثَلَاثَةً عَالِمًا بَیْنَ الْجُھَّالِ وَ غَنِیَّ قَوْمِ افْتَـقَرَ وَعَزِیْزَ  قَوْمٍ  ذَ لَّ یعنی تین آدمیوں پر رَحم کرو (۱)عالِم جو جاہلوں کے درمیان ہو (۲)محتاج قوم کامال دارشخص اور (۳)ذلیل قوم کا معزّز آدمی۔(1)
	اسی سبَب کے لحاظ سے اُمَّت کے درمِیان اَنبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام قابِل رَحم ہوتے ہیں اور اُمَّت کی کم عَقْلی کی وجہ سے جو چیزیں انہیں برداشت کرنا پڑتی ہیں وہ اَزل سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف سے ان  کے لئے آزمائش اور امتحان ہیں۔ درج ذیل فرمانِ مصطفٰے کا معنی ومطلب بھی یہی ہے۔ چنانچہ
	حضور نبیّ رحمت، شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرماتے ہیں:”اَلْبَلَاءُ مُوَکَّلٌ بِالْاَنْبِیَاءِ ثُمَّ الْاَوْلِیَاءِ ثُمَّ الْاَمْثَلِ فَالْاَمْثَل یعنی سب سے زیادہ آزمائش انبیا کی ہوتی ہے پھر اولیا کی اور پھر درجہ بدرجہ دیگر لوگوں کی آزمائش ہوتی ہے۔“(2)
	اس مقام پر یہ ہرگز گمان نہ کرنا کہ حضرت سیِّدُنا ایوبعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی آزمائش ہی آزمائش ہے جو کہ بد ن پر طاری ہوتی ہے کیونکہ حضرت سیِّدُنا نوح عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی آزمائش بھی بڑی آزمائش تھی۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو ایسی قوم سے آزمایا گیا کہ آپ نے جتنی انہیں ایمان لانے کی دعوت دی اتنی ہی ان کی سرکشی بڑھتی گئی۔ اسی لئے جب حضور نبیّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بعض لوگوں کی باتوں سے اذیت پہنچی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”رَحِمَ اللہ اَخِیْ مُوْسٰی لَقَدْ اُوْذِیَ بِاَكْثَرَ مِنْ هٰذَا فَصَبَرَ یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ میرے بھائی حضرت موسٰی عَلَیْہِ السَّلَام پر رحم فرمائے، انہیں اس سے زیادہ اذیت دی گئی مگر انہوں نے صبر کیا۔“(3)
نیک لوگوں کی آزمائشیں:
	غورکیجئے!اَنبیائے کِرام عَلَیْہِمُ السَّلَام مُنکِرِین کے سبَب ابتلا وآزمائش سے نہیں بچتے جبکہ اولیائے کِرام اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جامع بیان العلم،ص۱۷۸،حدیث:۵۸۶، بتقدم وتاخر۔
2…سنن الترمذی ، کتاب الزھد، باب ماجاء فی الصبر علی البلاء،۴/ ۱۷۹،حدیث:۲۴۰۶،بتغیرقلیل،دون ذکر’’الاولیاء‘‘۔
3…بخاری ، کتاب الادب ، باب من اخبرصاحبہ بما یقال فیہ،۴/ ۱۱۵، حدیث:۶۰۵۹،  دون قولہ اخی۔