اے میرےرب عَزَّ وَجَلَّ!بیماری اور علاج کس کی جانب سے ہے؟ارشاد ہوا:”میری جانب سے۔عرض کی: طبیب کا کیا کام ہے؟ارشاد فرمایا:”وہ اپنا رزق کھاتاہےاور میرے بندوں کو تسلّی دیتا ہے یہاں تک کہ میری طرف سے بندےکو شفا یا موت مل جاتی ہے۔“
علاج کے ساتھ توکل کے معنیٰ وہی ہیں جو علم اور کیفیت کےساتھ توکل کے ہیں جس کی وضاحت فوائد کی حفاظت اور نقصان کا خوف دور کرنےکے مقاصد میں گزر چکی ہے۔بہر حال علاج بالکل نہ کرناتوکل کی شرط نہیں ہے۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
جسم کو داغ لگاکرعلاج کرنابھی ایک ظاہری نفع بخش سبب ہے(تو یہ کیوں توکل کےمُنافی ہے)؟ جواب: جسم داغنے کو ظاہری سبب کہنادرست نہیں کیونکہ ظاہری اسباب توفَصَدکھلوانے یعنی رَگ سے خراب خون نکلوانے،پچھنے لگوانے،قَبْض دور کرنے والی دَوا پینے اور جسمانی گرمی والوں کا ٹھنڈی دوائیں استعمال کرنے کی طرح ہوتے ہیں،اگر جسم داغناظاہری اسباب میں شامل ہوتاتو اکثر ملکوں میں اس کے ذریعے علاج ہوتا حالانکہ بہت کم ممالک میں علاج کا یہ طریقہ اپنایاجاتاہےبلکہ یہ توبعض عرب اور تُرک شہروں میں رائج ہے لہٰذا یہ بھی وہمی اسباب میں سے ہے جیساکہ جھاڑ پھونک کروانا۔
اسے ظاہری سبب قرار نہ دینے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ داغنے میں آگ کے ذریعے جسم جلایا جاتا ہے حالانکہ اس کاعلاج ایسےطریقہ سے بھی ہوتاہے جس میں جسم جلانا نہ پڑے،نیز آگ کے ذریعے سے علاج کرنے میں جسم پرزخم ہوجاتاہےجو کہ جلدکوبد نما کردیتا ہے اوربعض اوقات خراب ہوکر پھیل جاتاہےجبکہ فصد اور پچھنے لگوانے میں زخم خراب ہوتاہے نہ کوئی علاج ان کے قائم مقام ہے۔اسی وجہ سے نبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جسم داغنے سے منع فرمایا(1)نہ کہ جھاڑ پھونک کروانے سے۔ اگرچہ دونوں ہی مُتَوَکِّلْ کے لئے منع ہیں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…بخاری، کتاب الطب، باب الشفاء فی ثلاث، ۴/ ۱۷، حدیث:۵۶۸۱